نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف پینتس طیاروں کی ہوشربا قیمتوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے متبادل طیارے بنانے کی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے ایف پینتیس قسم کے جنگی جہازوں کی تیاری پر آنے والے ہوشربا اخراجات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے بوئینگ کمپنی کو کم قیمت کے متبادل جنگی جہازوں کی تیاری کی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف پینتس طیاروں کے پروجیکٹ مینیجر کرسٹوفر بوگڈن سمیت اعلی فوجی حکام کے ساتھ میٹنگ کے بعد کہا کہ انہوں نے اجلاس کے دوران ایف پینتیس طیاروں کی قیمت کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔
ایف پینتس جنگی جہازوں کی تیاری امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی منصوبہ ہے جس پر سن دوہزار ایک سے اب تک مختلف وجوہات کے باعث عمل نہیں کیا جا سکا ہے۔
لاک ہیڈ مارٹن کمپنی ، سافٹ ویئر کی مشکلات اور اس کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے سوالات کی باعث اب تک یہ طیارے حکومت امریکہ اور دیگر ملکوں کے حوالے نہیں کر سکی ہے۔
ایف پینتس طیاروں کے منصوبے کا تخمینہ تین سو اناسی ارب ڈالر لگایا گیا ہے تاہم اس کے مجموعی اخراجات ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے ایف پینتس طیاروں کے تین ماڈلوں کی تیاری کا آغاز کیا ہے جو امریکہ اور دنیا کے نو دیگر ملکوں میں استعمال کیے جائیں گے۔

Dec ۲۴, ۲۰۱۶ ۱۱:۰۹ UTC
کمنٹس