آرمینیا کے صدر سرژ سرکیسیان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ہونے والے اپنے حالیہ مذاکرات کے نتائج کی رپورٹ یوریشیا اقتصادی یونین کے رکن ملکوں کے اجلاس میں پیش کر دی۔

روسی صدر ولادیمیرپوتن کی سربراہی میں یوریشیا اقتصادی یونین کے رکن ملکوں روس، قزاقستان، آرمینیا، بیلا روس اور قرقیزستان کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں ایران کے ساتھ مشترکہ آزاد تجارتی علاقے کے قیام کے موضوع کا جائزہ لیا گیا- اس اجلاس میں آرمینیا کے صدر نے ایران اور یوریشیا اقتصادی یونین کے مابین تعاون کے عارضی سمجھوتے کی وکالت کی اور اس پر دستخط کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا- ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا، یوریشیا اور ایران کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے مذاکرات کے عمل میں مدد کرے گا تاکہ یہ سمجھوتہ جلد سے جلد انجام پا سکے- آرمینیا کے صدر نے اس اجلاس میں گذشتہ بدھ کو ایروان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات کی تفصیلات اور نتائج سے بھی رکن ملکوں کو باخبر کیا- ایران اور آرمینیا کے صدور نے اپنے مذاکرات میں خلیج فارس سے بحیرہ اسود تک ٹرانسپورٹ راہداری کے قیام پر زور دیا تھا- آرمینیا کے صدر کا کہنا تھا کہ آرمینیا، یوریشیا اقتصادی یونین کا وہ واحد ممبرملک ہے کہ جس کی ایران کے ساتھ زمینی سرحدیں ملتی ہیں اور وہ کوشش کر رہا ہے کہ یونین کے ملکوں کا سامان، ایران کے راستے خلیج فارس اور پھر بحرالکاہل تک آسانی کے ساتھ پہنچایا جا سکے- یوریشیا اقتصادی یونین نے دو ہزار پندرہ میں باضابطہ طور پر اپنی سرگرمیاں شروع کی ہیں- ویتنام نے دو ہزار پندرہ میں اس یونین کے ساتھ آزاد تجارتی علاقے کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے جبکہ چین، ترکی، تیونس، ہندوستان، نیوزی لینڈ اور منگولیہ بھی اسی طرح کے مشترکہ  آزاد تجارتی علاقے کے قیام کے خواہاں ہیں-

 

Dec ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۱:۲۹ UTC
کمنٹس