رہبر انقلاب اسلامی نے نو دی تیرہ سو اٹھّاسی کے دن کی مناسبت سے اس بے مثال کارنامے اور عوام کی فکری طاقت کو اسلامی جمہوری نظام کی طاقت کا ایک نمونہ قرار دیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج منگل کے روز، ایرانی تاریخ نو دی تیرہ سو اٹھاسی مطابق انتیس دسمبر دو ہزار نو کے کارنامے کی سالگرہ سے قبل اپنے فقہ کے درس خارج میں اسلام کی حاکمیت سے مستکبرین کی دشمنی اور عملی کینہ توزی اور اسلامی نظام کی طاقت کی خصوصیات کو ختم کرنے کے لیے ان کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج سامراجی طاقتیں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مقابلہ آرائی میں ملت ایران کا عزم و ارادہ اور مادی و معنوی طاقت چھین لینا چاہتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے مقابلے میں اس طاقت کو محفوظ رکھ کر اس میں روز بروز اضافہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام (ص) کی ایک روایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انسانی معاشروں میں خیر و سعادت، طاقت کا حامل ہونے کے سائے میں حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکہ جیسی سامراجی طاقتیں دولت کو جمع کرنے اور دنیا میں ہی معاشرے کی سعادت اور امریکی اقدار کو تلاش کرتی ہیں لیکن اسلام، انسانی کمالات پر پہنچنے اور معاشرے کے تمام ارکان میں قرآنی فکر و عمل رکھنے کو ہی انسان کی سعادت سمجھتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کے مختلف مسائل میں اثرورسوخ اور قدرت کے حامل اور اسلام کے بطن سے پیدا ہونے والے نظام کے وجود کو دنیا کی بڑی طاقتوں کے کینے اور دشنمی کی وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تسلط پسندانہ نظام دنیا میں ظلم اور امتیازی سلوک کے خلاف ہر فکر اور تحریک کا مخالف ہے، لیکن وہ اس وقت اس تحریک کے خلاف پوری قوت کے ساتھ مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ جب وہ تحریک ایک قوم کے سمندر کی حرکت میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مختلف سازشوں اور دشمنیوں کو ایسے ایران میں تسلط کے نظام کی مخالفت کا مظہر قرار دیا کہ جو بے پناہ قدرتی، انسانی اور اقتصادی وسائل و ذخائر، حرف و منطق اور سیاسی منبر، لائق و قابل فوج اور فوجی طاقت اور سازوسامان کا حامل ہے۔ آپ نے اس بات پر تاکید فرمائی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ان دشمنیوں کے مقابلے میں اپنی طاقت کو بڑھانا چاہیے اور داخلی طاقت کو بڑھانے اور داخلی ساخت کو مستحکم کرنے پر بار بار زور دینے کی وجہ یہی مسئلہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فکری، اقتصادی، سماجی اور عوامی رضاکار فورس کی طاقت سمیت مختلف قسم کی طاقتوں سے لیس ہونے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کو تقریبا چالیس سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بائیس بہمن مطابق گیارہ فروری کو دسیوں لاکھ افراد کا سڑکوں پر نکلنا، عوامی رضاکار فورس میں اسلامی نظام کی طاقت کی نشانی ہے کہ یہ بات دنیا میں بے مثال ہے۔ آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نو دی مطابق انتیس دسمبر کے واقعے کو نظام کی طاقت کے عناصر کا ایک اور نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس بے مثال واقعے میں کوئی بھی اس کا منتظم نہیں تھا اور فکری طاقت کہ جو اسلامی نظام کا اصلی حصہ ہے، لوگوں کو سڑکوں پر لے آئی اور یہ بے مثال واقعہ رونما ہوا۔رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح سعادت اور بدبختی کو طاقت کے صحیح یا غلط استعمال کا نتیجہ قرار دیا اور ایٹمی ہتھیاروں کی طاقت کے بارے میں فرمایا کہ ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کی انتہائی اہم فقہی اور عقلی بنیادیں ہیں لیکن حکومت اور قوم کے پاس طاقت کی دیگر اقسام کو حاصل کرنے کی کوشش کا امکان موجود ہے۔

Dec ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۳:۱۲ UTC
کمنٹس