رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ، برطانیہ اور صیہونی حکومت کو اسلامی جمہوریہ ایران کا مستقل دشمن قرار دیا ہے۔

انیس دی تیرہ سو چھپن ہجری شمسی مطابق نوجنوری انیس سو اٹھتر کے انقلابی اقدام کی سالگرہ کے موقع پر قم شہر کے ہزاروں لوگوں نے تہران میں رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی اور فلک شگاف نعرے لگا کر اپنے محبوب قائد سے والہانہ محبت کا اظہار کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا کہ اصلی بیرونی دشمنوں کا وجود محض نعرہ نہیں بلکہ مدلل بنیادوں پر استوار ایک حقیقت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ کے بظاہر خوش اخلاق وزیر خارجہ نے اپنے اختتامی خط میں آنے والی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ " ایران پر سختی کرو اور پابندیوں کو باقی اور محفوظ رکھو کیونکہ بقول ان کے سختی کے ذریعے ایران سے مراعات حاصل کی جا سکتی ہیں"، لہذا مسکرانے والے اور ایران کو بدی کا محور قرار دینے والے دشمن میں کوئی فرق نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے برطانیہ کی دشمنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ "بوڑھا اور ناکارہ برطانوی سامراج ، آج ایک بار پھر خلیج فارس میں آ گیا ہے اور خطے کے ملکوں کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایران کے خطرہ ہونے کا دعوی کر رہا ہے حالانکہ وہ خود علاقے کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ برطانوی حلقے خطے کے ملکوں اور ایران کے بارے میں سازشیں تیار کر رہے ہیں اور عراق، شام، یمن اور لیبیا کی تقسیم، ان کا ایک مقصد ہے اور ایران کے بارے میں بھی ان کی نیت یہی ہے لیکن ایرانی عوام کے شدید ردعمل سے خوفزدہ ہیں لہذا یہ بات زبان پر نہیں لاتے ہیں۔
آیت العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ، برطانیہ اپنے زعم میں، جامع ایٹمی معاہدے کے بعد کے عرصے میں ایران کے لیے مشکلات اور پابندیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ ایران سمیت خطے کے مقامی لوگوں کو مسلح کر رہا ہے تاکہ یہ افراد اسلامی حکومت اور قوم پر حملہ کر سکیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی اور برطانوی تھنک ٹینکوں کی جانب سے دین کے سیاسی افکار کے مقابلے اور دین و سیاست کی جدائی کے منصوبوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مسجدں ، گھروں اور لوگوں کی ذات میں محدود دین چاہتے ہیں، اقتصاد و سیاست میں عمل کرنے والا اور دشمن سے ٹکرانے والا دین نہیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس بات پر تاکید فرمائی کہ دشمن اس دین سے خوفزدہ ہے جو حکومت، معیشت، طاقت، سیاست ، فوج اور مالیاتی اور انتظامی اداروں کا مالک ہو، بنابرایں دین کی صحیح معرفت یہ ہے کہ زندگی و سیاست سے دین کو جدا نہ کیا جائے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمن کو ایرانی قوم کی صحیح پہچان نہیں ہے، سن دو ہزار نو کے فتنے کو دشمن کے اندازے کی غلطی قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ دشمن نے دوہزار نو کا فتنہ کھڑا کرکے ، اپنے خیال میں معاملے کو انتہائی حساس مقام پر پہنچا دیا تھا لیکن اچانک نو جنوری انیس سو اٹھہتر کے انقلابی اقدام کی طرح تیس دسمبر کی عوامی تحریک نے سب کو مبہوت کرکے رکھ دیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رح کے بڑے بیٹے سید مصطفی خمینی کی شہادت کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے تعزیتی پروگراموں میں عوام کی بھرپور شرکت کے بعد ظالم شاہی حکومت نے تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کا ارتکاب کیا تھا اور روزنامہ اطلاعات میں امام خمینی اور علما کی شان میں توہین آمیز مضمون شائع کرا کے، اسلامی انقلاب کی تحریک کو فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا۔
اس توہین آمیز مضمون کی اشاعت کے اگلے ہی دن قم کےعوام اور علما نے سب سے پہلے مظاہروں کا آغاز کیا جس پر شاہی حکومت کے سیکورٹی اہلکاروں نے حملہ کرکے درجنوں لوگوں کو خاک و خوں میں نہلا دیا۔

Jan ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۴ UTC
کمنٹس