ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مشترکہ کمیشن کا چھٹا اجلاس آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بلایا گیا جس میں امریکہ کی عہد شکنی اور ایران پر پابندیوں کے قانون آئی ایس اے (ISA) کی توسیع کا جائزہ لیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مشترکہ کمیشن کی کوآرڈینیٹر فیڈریکا موگرینی کے نام ایک خط بھیجا۔ جس میں امریکہ کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فیڈریکا موگرینی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ امریکہ کے حالیہ اقدام کے جائزے کے لئے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مشترکہ کمیشن اور ورکنگ گروپ کے مشترکہ اجلاس کے لئے ضروری اقدامات انجام دیں۔

سنہ 2016 ع میں دسمبر کے اوائل میں امریکی کانگریس نے ایران پر پابندیوں سے متعلق اپنے قانون آئی ایس اے میں مزید دس سال کی توسیع کر دی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے ایران مخالف پابندیوں میں توسیع کے ساتھ اتفاق کیا لیکن اس قانون پر دستخط کرنے سے اجتناب کیا۔ ان پابندیوں میں توسیع مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہے۔

امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق ایران مخالف پابندیوں کو ملتوی کر رکھا ہے لیکن ایران کے میزائیل پروگرام کو بہانہ بنا کر ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگا کر دوسری پابندیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ اور ایشیا کے بہت سے بڑے بڑے بینکوں پر امریکی وزارت خزانہ کے احکامات کی تلوار لٹک رہی ہے۔ مشترکہ جامع ایکشن پلان میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام فریق اس بات کے پابند ہیں کہ مختلف میدانوں خصوصا تیل اور گیس کے میدانوں میں ایران کے اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں نہیں ڈالیں گے۔ دوسرا مسئلہ امریکی باراک اوباما کی صدارت کی مدت پوری ہونا اور ڈونلڈ ٹرمپ کا اس ملک کا نیا صدر بننا ہے۔ امریکی حکومت کی موجودہ ٹیم آئندہ چند دنوں تک وائٹ ہاؤس سے نکل جائے گی ۔ امریکہ کی موجودہ حکومت اس بات کو بعید جانتی ہے کہ ٹرمپ ایٹمی معاہدے کو نظر انداز کریں گے البتہ وہ اس پر عملدرآمد کو مشکل بناسکتے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے اس یونین کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں اس سمجھوتے کے چند طرفہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ روس کے نمائندے ولادیمیر وورونکوف نے بھی ویانا اجلاس میں کہا کہ انتخابی مہم ایک الگ چیز ہے لیکن جب وہ اپنے کام کا آغاز کریں گے تو وہ ایک دوسری چیز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے امریکی صدر (ٹرمپ ) کے لئے یہ امکان ہے کہ وہ اس دستاویز کو دوسری شکل میں دیکھیں۔

اس وقت مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں دو زاویۂ ہائے نگاہ پائے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ اس سمجھوتے پر عملدرآمد کے بارے میں کوئی بات نہ کی جائے اور اس کا فیصلہ آنے والے وقتوں پر چھوڑ دیا جائے۔ دوسرا زاویۂ نگاہ یہ ہےکہ مشترکہ جامع ایکشن کے دوسرے فریق یعنی چین ، روس اور یورپی یونین مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں کیونکہ نہ صرف  مشترکہ جامع ایکشن پلان بلکہ دوسرے موضوعات کے بارے میں بھی اس سلسلے کا جاری رہنا ایک ایسی مشکل میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جو ایک جانب ایران کے یورپی یونین سمیت دوسرے ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈالے گی اور دوسری جانب امریکہ کے ساتھ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے دوسرے فریقوں کے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔

البتہ ایران نے صراحت کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں دوسرے فریقوں کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا اور وہ عالمی اداروں میں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر بائیس اکتیس کے مطابق مشترکہ جامع ایکشن پلان میں درج اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھائے گا۔ ایران کی جانب سے فیڈریکا موگرینی کو ارسال کردہ خط اور ویانا اجلاس میں ایرانی وفد کے بیان کردہ مواقف اسی زاویۂ نگاہ  کی تاکید ہیں۔

 

Jan ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۴ UTC
کمنٹس