افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو بم دھماکوں اور قندھار میں ایک بم دھماکےکے نتیجے میں 35 افراد جاں بحق اور 77 زخمی ہوگئے ہیں۔ جس سے اس ملک میں بدامنی جاری رہنے کی عکاسی ہوتی ہے اور افغانستان میں بدامنی ختم ہونے کے کوئی شواہد دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے دارالامان میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے دو بم دھماکوں سے یہ علاقہ لرز اٹھا۔ یہ دھماکے دس جنوری منگل کے دن سہ پہر کے وقت ہوئے۔ ان دھماکوں میں اکتیس افراد جان بحق اور ستّر زخمی ہوگئے۔

ایک اور بم دھماکہ صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ میں ہوا جس میں چار افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہےکہ طالبان نے افغانستان کے قومی سیکورٹی کے ادارے کے ملازمین کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ طالبان کے اس ترجمان کے بقول اس حملے میں صوبہ ہلمند کے بعض مقامی حکام اور قومی شخصیات کا مارا جانا یقینی ہے۔  اس سلسلے میں اگر متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکاروں کے مارے جانے ، قندھار کے گورنر محمد ہمایوں کے زخمی ہونے اور اٹھارہ افراد کی ہلاکتوں کا دعوی درست ہو  اور ان تمام ہلاکتوں کو طالبان کے غیر انسانی اقدامات میں شامل کیا جاسکتا ہو تو پھر اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ طالبان افغانستان پر ضرب لگانے کی قدرت رکھتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ قندھار اور ہلمند افغانستان کے بدامنی کے شکار جنوبی صوبے شمار ہوتے ہیں جہاں وقتا فوقتا طالبان عوام کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے رہتے ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ طالبان کابل کے علاقوں میں بھی بم دھماکے کرتے ہیں اور اس سلسلے میں دارالامان نامی علاقے کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ طالبان صرف قندھار اور ہلمند میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔ صوبہ ہلمند میں موجود نیٹو کے فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے طالبان کے اندر اس صوبے پر قبضے کا جذبہ بڑھ گیا ہے۔ اس وقت ہلمند صوبے کے کم از کم تین شہر طالبان کے قبضے میں ہیں۔ طالبان کے سرغنوں کے مواقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اس ملک میں امن قائم کرنے پر قادر نہیں ہے۔ ان حالات میں قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے امن مذاکرات کے از سر نو آغاز پر تاکید کی ہے۔ افغان صدر محمد اشرف غنی بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ طالبان دہشت گردی سے دستبردار ہو جائیں اور امن مذاکرات میں شامل ہوجائیں۔ لیکن جب بھی مذاکرات اور صلح کی بات ہوتی ہے اور بات چیت کا ماحول تیار ہوتا ہے تو دہشت گردانہ کارروائی ہوجاتی ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہےکہ ان اقدامات کا مقصد تفرقہ پھیلانا اور انتہا پسندی کوتقویت پہنچانا ہے تاکہ امن مذاکرات اپنے اصل راستے سے ہٹ جائیں۔ اس لئے اس طرح کے واقعات اس ملک میں بدامنی کے اصل اسباب کو سمجھنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ دہشت گرد گروہ امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جن کو حالیہ برسوں کے دوران اپنی کارروائیاں انجام دینے کے بہت مواقع ملے ہیں۔ تمام قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ کبھی  بھی افغانستان میں جنگ کے خاتمے کی کوشش نہیں کرے گا اور جب تک افغانستان میں یہ صورتحال موجود رہے گی تب تک طالبان بھی اقتدار میں اپنا حصہ لینے یا دوسرے لفظوں میں اقتدار کے کچھ حصے پر قبضہ کرنے کے درپے رہیں گے۔

Jan ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۹ UTC
کمنٹس