روس کے کرملن ہاؤس نے نئی امریکی پابندیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ان پابندیوں سے روس امریکہ تعلقات متاثر ہوں گے۔

امریکہ نے روس کے بعض حکام اور کمپنیوں کے خلاف یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ان حکام اور کمپنیوں نے مداخلت کی ہے۔

امریکہ نے ان پابندیوں کے علاوہ روس کے خلاف بعض خفیہ اقدامات بھی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کرملن ہاؤس کے ترجمان دیمتری پسکوف نے روس کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات، روس امریکہ تعلقات کو ختم کر کے رکھ دیں گے۔ روس کے اس ترجمان نے امریکہ کی نئی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے بھی جوابی اقدام عمل میں لایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن جلد ہی کوئی  فیصلہ کریں گے۔ پسکوف نے امریکہ میں باراک اوباما کی صدارت کی مدّت ختم ہونے کے موقع پر واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کا اقدام عمل میں لائے جانے پر شک و شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کو اس بات پر یقین نہیں ہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹمرپ، ماسکو کے خلاف لگائی جانے والی نئی پابندیوں کی حمایت کریں گے۔

روس کے اس ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اس قسم کے اقدامات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ باراک اوباما، دشمنانہ خارجہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ ان کا صدارتی دور ختم ہونے کے موقع پر اس طرح کے اقدام کے دو نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ، روس امریکہ تعلقات کو زیادہ سے زیادہ متاثر کرنا اور دوسرا، امریکہ کے آئندہ کے صدر کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانا۔

دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا رووا نے بھی روس کے خلاف امریکہ کے نئے تادیبی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے حالیہ اقدام عمل میں لا کر امریکی عوام کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ واشنگٹن اور سان فرانسسکو سے روس کے پینتیس سفارت کاروں کو بھی نکال دیا ہے اور انھیں ملک چھوڑنے کے لئے صرف بہتر گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

حکومت امریکہ نے نیویارک اور میریلینڈ میں روس سے متعلق دو عمارتوں کو بھی بند کر دیا ہے۔ ان عمارتوں میں انٹیلی جنس سے متعلق سرگرمیاں انجام پاتی تھیں۔

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ اقدامات روس میں امریکی سفارت کاروں کی ایذا رسانی اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے جواب میں عمل میں لائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما آئندہ چند روز میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے بارے میں امریکی کانگریس کو ایک رپورٹ بھی پیش کرنے والے ہیں۔

Dec ۳۰, ۲۰۱۶ ۰۹:۵۸ UTC
کمنٹس