امریکی صدر باراک اوباما نے ملک میں مذہبی تفریق اور نسلی منافرت کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے۔

شکاگو سٹی میں بطور صدر اپنی آخری تقریر میں صدر باراک اوباما نے کہا کہ نسل پرستی اب بھی امریکہ میں تفریق کا سبب بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرستی کے رجحانات جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
انہوں یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب بھی کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آئین میں درج سیاسی توازن کو پامال کرنے اور عوام کو نظر انداز کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔
باراک اوباما نے اپنی آخری تقریر میں، ایران اورپانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے اور کیوبا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو اپنی حکومت کی اہم ترین کامیابی قرار دیا۔
امریکی صدر نے یہ بات زور دیکر کہی کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انکار، آئندہ نسلوں کے ساتھ خیانت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں پولیس کے تشدد اور فائرنگ میں سیاہ فاموں اور دیگر نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے قتل کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی سماج میں نسل پرستی کا زہر تیزی سے سرایت کرتا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ہر اٹھائیس گھنٹے میں ایک سیاہ شہری امریکی پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہو جاتا ہے۔
باراک اوباما کا آٹھ سالہ دور حکومت آئندہ ہفتے ختم ہو جائے گا اور ڈونلڈ ٹرمپ بیس جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد وائٹ ہاوس کا قبضہ حاصل کر لیں گے۔

Jan ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۰ UTC
کمنٹس