فلسطینیوں نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے پر مبنی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے صدر مقام رام اللہ میں کئے جانے والے مظاہرے میں شریک فلسطینیوں نے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے متعلق ٹرمپ کے فیصلے کو صیہونی بستیوں کی تعمیر کی حمایت کا ایک ایسا طریقہ قرار دیا کہ جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مذمت کی ہے۔

دریں اثنا بیت المقدس کی اعلی اسلامی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کئے جانے کا مطلب اس شہر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے حقوق کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس بیان کی مطابق اس سلسلے میں امریکی موقف، عالمی برادری کے موقف کے منافی ہے جو بیت المقدس کو مقبوضہ شہر سمجھتی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے دسمبر دو ہزار سولہ کے شروع میں تل ابیب میں امریکہ کے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کئے جانے کے منصوبے کو چھے ماہ کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔ جبکہ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیں گے جس پر فلسطینیوں اور عالمی برادری نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

Jan ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۸ UTC
کمنٹس