آئندہ امریکی حکومت کے نامزد وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا ہے وہ ایران کے ساتھ طے ہوئے ایٹمی سمجھوتے پر نظر ثانی کی سفارش کریں گے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق ریکس ٹلرسن نے جنھیں نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے لئے وزیرخارجہ کے طور پر شامل کیا ہے، امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں تقریرکرتے ہوئے اپنے آئندہ کے پروگراموں کا دفاع کیا-

ٹلرسن نے ایٹمی معاملے پر ہونے والے بین الاقوامی معاہدے کے برخلاف بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو یورینیم افزودہ نہیں کرنا چاہئے- انہوں نے  دعوی کیا کہ اس معاہدے میں ایران کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں خرید سکتا-

امریکا کے ممکنہ وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا کی نئی حکومت ایسا ایٹمی معاہدہ چاہتی ہے کہ جس میں ایران کو یورینیم کی ا‌فزودگی سے مکمل طور پر روکا جائے- ٹلرسن کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران نے، جسے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، علاقے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک قرار دیئے جانے کا ہمیشہ مطالبہ کیا ہے-

ایران کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے میں صرف صیہونی حکومت ہی ہے کہ جس کے پاس سیکڑوں کی تعداد میں ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں- دوسری طرف آئی اے ای اے اور ایٹمی معاہدے کی نگرانی کرنے والے مشترکہ کمیشن کی رپورٹوں میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے برخلاف اب تک اپنے سبھی وعدوں پر عمل کیا ہے-

گذشتہ منگل کو بھی ایران کے وزیرخارجہ کی درخواست پر ایٹمی معاہدے کی نگرانی والے مشترکہ کمیش کا اجلاس ویانا میں منعقد ہوا جس میں ایران مخالف امریکی قانون آئی ایس اے کی مدت میں توسیع سے مذکورہ معاہدے کی ہونے والی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا- اس اجلاس میں ایران اور پانچ جمع ایک کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہوئے-

اجلاس میں ایران نے گذشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کی طرف سے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ٹھوس ثبوت پیش کرتے ہوئے آئی ایس اے قانون کی مدت میں توسیع کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی قراردیا- اجلاس میں شریک مشترکہ کمیشن کے نمائندوں نے بھی ایران کی تشویش کو سنجیدہ قراردیتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ آئی ایس اے قانون کو ایٹمی معاہدے کے تعلق سے غیر موثر قرار دے-

اجلاس میں شریک مندوبین نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ ایران مخالف امریکی قانون آئی ایس اے کا ایران کے ساتھ تجارت اور لین دین پر کوئی اثر نہیں ہو گا-

یاد رہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران ایٹمی معاہدے کو ایک المیہ قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دنیا کا بدترین معاہدہ ہے- ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو وائٹ ہاؤس میں پہنچتے ہی اس معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں گے-

Jan ۱۲, ۲۰۱۷ ۰۹:۳۷ UTC
کمنٹس