امریکہ کے نو منتخب صدر نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوباما پر داعش کی تشکیل کا الزام لگایا ہے۔

نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنی پریس کانفرنس میں امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوباما کو داعش کی تشکیل کا ذمہ دار قرار دیا-

ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ اپنے دور صدارت میں روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے، کہا کہ ماسکو ، داعش کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی مدد کر سکتا ہے-

نومنتخب امریکی صدر نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم روس کے ساتھ اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں-

ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ ممکن ہے کہ روس نے سائبر حملوں میں ڈیموکریٹ پارٹی کی مدد میں کردار ادا کیا ہو، کہا کہ امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی کی قومی کمیٹی کے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر حملوں میں بہت سے ممالک کا کردار رہا ہے اور اس کی وجہ ان سسٹموں کی کمزور سیکورٹی تھی-

نومنتخب امریکی صدر نے اپنی اس پریس کانفرنس میں امریکہ کے سی این این ٹی وی چینل کے رپورٹر کے سوال کا جواب نہ دیتے ہوئے سی این این کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا کہ روس کے پاس ٹرمپ کے سلسلے میں رسوا کن دستاویزات موجود ہیں اور ماسکو نے ان دستاویزات کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالا ہے۔

ٹرمپ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اس جھوٹی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے پیچھے امریکہ کے انٹیلیجنس اداروں کا ہاتھ ہے- سرکاری رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن اور اس کے مغربی اتحادی من جملہ فرانس اور برطانیہ نے خلیج فارس کے بعض عرب ممالک کے ساتھ مل کر داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو تشکیل دیا اور ان کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد کرتے رہے-

داعش مخالف نام نہاد اتحاد بھی، کہ جو اوباما کے دور صدارت میں عراق اور شام میں داعش دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بہانے تشکیل پایا ہے، دو جنوری کو اپنی ایک رپورٹ میں باقاعدہ اعتراف کیا ہے کہ دو ہزار چودہ میں حملوں کے آغاز سے اب تک اس ملک کے کم سے کم ایک سو اٹھاسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عراقی اور شامی حکومت کی رپورٹوں کے مطابق ان دونوں ملکوں کے سیکڑوں بے گناہ شہری، داعش مخالف اس جھوٹے اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے ہیں-

واضح رہے کہ امریکہ کا فوجی بجٹ دنیا کے ہر ملک سے زیادہ ہے اور عالمی اعداد و شمار کے مطابق یہ اسلحہ برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے-

Jan ۱۲, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۶ UTC
کمنٹس