ترجمہ و تلخیص: م۔ ہاشم

بان کی مون کو بیرونی مسائل اور علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں کا بھی سامنا رہا۔ اس سلسلہ میں خاص طور سے بحران شام، بحران یوکرین، بحران جنوبی سوڈان اور جنگ یمن کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے مسائل میں وہ صرف ایک تماش بین بنے رہے اور مؤثر کردار ادا نہیں کرسکے۔ بان کی مون نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کی استقبالیہ تقریب میں یہ اعتراف کیا کہ اس بین الاقوامی ادارہ کو بہت سے معاملات میں شکست ہوئي ہے جن میں بحران شام کا جاری رہنا خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ بحران شام کے حل میں اقوام متحدہ کی عدم توانائی کی طرف بان کی مون کا اشارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہے۔

جنگ یمن جیسے مسائل میں بھی اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ادارہ یمنی عوام کے خلاف سعودی عرب کے  بے رحمانہ ہوائی حملے نہ رکوا سکا بلکہ اقوام متحدہ کا ایک اقدام اس کی بڑی بدنامی کا باعث بھی بنا۔ اقدام یہ تھا کہ اقوام متحدہ نے بچوں کی قاتل حکومتوں کی اپنی فہرست میں سعودی حکومت کا نام شامل کیا تھا لیکن جب سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے لئے اپنی مالی مدد منقطع کرنے کی دھمکی دی تو بچوں کی قاتل حکومتوں کی اقوام متحدہ کی فہرست سے سعودی حکومت کا نام نکال دیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ادارہ بعض ممالک کے دباؤ میں آکر اپنے موقف سے آسانی کے ساتھ پسپائي اختیار کر لیتا ہے۔

ایک فری لانس صحافی ’میتھیو رسل لی‘ بچوں کی قاتل حکومتوں کی اقوام متحدہ کی فہرست سے سعودی عرب کی حکومت کا نام حذف کئے جانے کے بارے میں کہتے ہیں ۔

̏ اقوام متحدہ کو، جو اس طرح کے مسائل کی طرف توجہ کا دعوی̍ کرتا ہے، اس فہرست سے سعودی عرب کا نام حذف نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میرے خیال میں بان کی مون کا یہ اقدام غلط اور افسوسناک تھا۔ میرے خیال میں بان کی مون نے اقوام متحدہ کی سربراہ کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے آخری سال میں جو کام انجام دیا وہ اقوام متحدہ کے لئے شرمناک تھا۔̋

 

Jan ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۷:۱۷ UTC
کمنٹس