تحریر : حسین اختر

دین اسلام نےانسان کو ایک سماجی وجود قراردیا ہے جو اپنے جیسے افراد کے ساتھ مل جل کر ترقی و کمال کی راہ طے کرتا ہے اور اسلام نے اپنے عزیز واقارب کے ساتھ معاشرت اور مل جل کر رہنے خصوصا ان کے ساتھ محبت و الفت سے پیش آنے اور ان کی مالی امداد کرنے کو " صلہ رحم " کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ۔

دین اسلام کے بہترین اصولوں میں سے ایک اہم اصول اتحاد واتفاق ہے یہ اتحاد و اتفاق سب سے پہلے گھروالوں اس کے بعد رشتہ داروں اور پھر پورے اسلامی معاشرے کے درمیان پایا جاتا ہے ، اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا معاشرے کے استحکام کے لئے نہایت ضروری ہے ، کیونکہ اگر ایک چھوٹے سےگھر کے افراد کے درمیان بہترین تعلقات استوار ہوں گے تو یہی اچھے رابطے خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح کا سبب بن جائیں گے،اسی لئے اسلام نے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات رکھنے پر بہت زيادہ تاکید کی ہے اور صلہ رحم اور اعزہ و اقارب سے بہترین تعلقات اور خبرگیری کو الہی اقدار کے عنوان سے واجب قراردیا ہے ۔خداوندعالم سورہ نساء کی چھتیسویں آیت میں اعزہ و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کا اپنی عبادت کے ساتھ ذکرکیا ہے اور فرمایا ہے :" اللہ کی عبادت کرو اور کسی شے کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین اور اپنے قرابتداروں کے ساتھ نیک برتاؤ کرو " اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ بہترین برتاؤ کے ساتھ ساتھ اسلام نے رشتہ داروں کے ساتھ بھی بہترین سلوک کرنے کی تاکید کی ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے والدین پھر اپنے بھائی بہن اور اس کے بعد اپنے اعزہ واقارب کے ساتھ الفت و محبت سے پیش آئیں اور ان کےساتھ مل جل کر رہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں فرماتے ہیں: تم لوگ سب سے پہلے اپنی ماں پھر اپنے باپ اور بھائی ، بہن اور اس کے  بعد قرابت کے لحاظ سے زیادہ قریب قرابتداروں کے ساتھ نیکی کرو۔

صلہ رحم یا عزیزو اقارب کے ساتھ ملاقات اورآمد و رفت روح کو شادابی ، انسان کی عمر کو طولانی اور ان کی مادی و معنوی مشکلات کو ختم کردیتی ہے۔ فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام رشتہ داروں اور دوستوں کے یہاں آمد ورفت اور ملاقات سے مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: صلہ رحم اعمال کو پاک و پاکیزہ ، مال ومنال میں اضافہ ، بلاؤں کو رفع ، حساب و کتاب کو آسان ، موت میں تاخیر ، عمر کو طولانی اور اخلاق کواچھا و عمدہ بناتا ہے اور انسان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اس کے دل وجان کو فرحت و خوشی نصیب ہوتی ہے ۔

 

Jan ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۶:۵۸ UTC
کمنٹس