تحریر: حسین اختر

صلہ رحم صرف رشتہ داروں اور مومنین سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے ۔ روایت میں آيا ہے کہ ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا:اے اللہ کے رسول، میرے کچھ رشتہ دار ہیں جن کے ساتھ میں نیک سلوک کرتا ہوں لیکن وہ لوگ مجھے اذیت دیتے ہیں اب میں چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھوں ؟ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا کروگے تو خداوندعالم ہم سب کو ہمارے حال پر چھوڑ دے گا ۔ اس شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے حبیب پھر ہم کیاکریں ؟

رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے تم کو محبت سے محروم کردیا ہے تم اس سے محبت سے پیش آؤ اور جس نے تم سے تعلقات ختم کردیئے ہیں تم اس سے تعلقات برقرار رکھو اور جس نے تم پر ظلم کیا ہے اسے معاف کردو اگر تم نے ایسا کیا تو خداوندعالم تمہاری حفاظت فرمائے گا ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی شخص نے سوال کیا کہ اے رسول خدا بہترین صدقہ کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا:بہترین صدقہ یہ ہے کہ جو رشتہ دار تم سے دشمنی رکھتے ہوں ان کے ساتھ محبت و الفت سے پیش آؤ، لہذا تمام قرابتداروں سے صلہ رحم کرنا چاہیئے صرف یہی نہیں بلکہ انسان ان لوگوں کے ساتھ بھی صلہ رحم کرے جودلوں میں بغض و کینہ رکھتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات برقراررکھنے سے شہرآباد ہوتے ہیں ، عمریں طولانی ہوتی ہیں اگرچہ وہ نیک لوگوں میں سے نہ ہوں ۔

صلہ رحم ان واجب اعمال میں سے ہے جس کا بذات خودانجام دینا واجب ہے ۔امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام صلہ رحم کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہيں : اہل دین کے لئے کچھ علامتیں ہیں جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں اور صلہ رحم انہیں علامتوں میں سے ایک ہے ۔

خود رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی صلہ رحم کو دین کی ضروریات میں شمار کرتے ہوئے فرمایا ہے: جو شخص صلہ رحم نہيں کرے گا اس کا دین ناقص ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابی جناب جابر بن عبداللہ انصاری نے جو فرزند رسول حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہے  آنحضرت سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں قیامت تک اپنی امت کے حاضر و غائب افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ صلہ رحم کی پابندی کریں اگر چہ ایک دوسرے سے ملاقات میں ایک سال کی مسافت ہی کیوں نہ طے کرنا پڑے کیونکہ صلہ رحم دین کے اہم مسائل میں سے ایک ہے ۔

صلہ رحم اور عزیزو اقارب کا ایک دوسرے سے ملاقات کرنا محبتوں میں اضافے کا سبب ہے اور نفرت و کدورت کودل سے مٹا دیتا ہے اور اس فریضہ الہی کے بجالانے سے خدا اور رسول خدا خوش ہوتے ہیں ۔حدیث قدسی میں پروردگارعالم ارشاد فرماتا ہے: کہ اگرکوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے جائے تو اس نے مسلمان بھائی کی نہیں بلکہ میری زيارت کی ہے اور اس کا اجر وثواب میرے ذمہ ہے اور وہ بہشت ہے ۔اوراسی کے مقابلے میں اسلام نے قطع رحم اور رشتہ داروں سے تعلقات ختم کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور جو لوگ رشتہ داروں سے ترک تعلق کرتے ہيں خداوند عالم ان پر لعنت و ملامت کرتا ہے جیسا کا سورہ محمد کی بائسیویں آیت میں ارشاد الہی ہوتا ہے کہ: اگر تم خدا کے حکم کی نافرمانی کروگے تو کیا تم سے کچھ بعید ہے زمین میں فساد برپا کرو اور قرابتداروں سے قطع تعلق کرلو؟ یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدانے لعنت کی ہے ۔اس لئے ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ صلہ رحم کرے ۔فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام صلہ رحم کے سب سے کمترین درجے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہيں: اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ایک گھونٹ پانی کے ذریعے ہی اپنے تعلقات کو مستحکم رکھو اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بہترین راہ یہ ہے کہ تمہاری ذات سے انہیں کوئی تکلیف و اذیت نہ پہنچے ۔

 

 

 

Jan ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۷:۰۲ UTC
کمنٹس