تحریر : ڈاکٹر آر نقوی

"شرعی حق اور عوامی اعتماد کی بناپر، ملکی باگ دوڑ انقلابی کونسل کے سپرد کرتا ہوں"
سنہ 1357 کے دسوے مہینے کی 22 تاریخ (12 جنوری 1979ء) کو ملک میں'' انقلابی کونسل''، سیاسی طاقت کا سب سے پہلا اہم ترین رکن اور حضرت امام خمینی(رح) کے بعد اہم فیصلوں کا سب سے اعلی مرکز کے طورپر، امام (رح) کے پیغام سے وجود میں آیا۔ 

سرزمین ایران پر رونما ہونے والا اسلامی انقلاب نہ صرف موجودہ دور بلکہ اس صدی کا سب سے اہم اور حیرت انگیز واقعہ ہے۔

نہتے عوام کا جن میں نوجوانوں کے علاوہ بوڑھے ، بچے اورعورتیں بھی شامل تھے، اپنے عظیم رہبر امام خمینی (رح) کی رہنمائی میں ایک طاقتور ظالم و جابر حکومت سے ٹکر لینا اور اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ شاہِ خائن اور اس کی حکومت کا تو محض نام تھا ورنہ ایرانی عوام کا اصل مقابلہ تو امریکہ جیسی مضبوط اور مکار طاقت سے تھا، جس نے آخر وقت تک شاہِ خائن کی حمایت اور پشت پناہی میں کوئی کسر باقی نہ رکھی اور ایران کی بہادر قوم کو کچلنے کی ہر امکانی کوشش کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رضا شاہ پہلوی اوراس کے باپ کے ستاون سالہ عہد حکومت میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے حکومت کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔ امام خمینی (رح) نے درست فرمایا ہے کہ ''امریکہ اور دیگر سپر طاقتوں کے ہاتھ کہنیوں تک ہمارے جوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

امام خمینی(رح)  پیرس میں تھے اور ایران میں انقلابی سرگرمیآں اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں ۔ایرانی عوام منتظر تھے کہ اس حساس مرحلے میں انقلاب کی اندرون ملک رہنمائی کے لئے افراد کو متعین کیا جائے امام خمینی (رح)  بھی اس طرف متوجہ تھے انہوں  نے اپنے قریبی رفقا اور انقلابی شخصیات سے اس بارے میں ضروری مشورہ کیا اور آیت اللہ مطہری کو ذمہ داری سونپی کہ وہ اس کونسل کے لئے مجوزہ افراد کی فہرست کو ضروری صلاح مشورے کے بعد امام (رح) کو ارسال فرمائیں۔

''22 دی سنہ 1357 ہجری شمسی(11-1-1979) کو ایران کے اسلامی انقلاب کے حسّاس ترین دور میں جب امریکی حکومت پہلوی حکومت کو بچانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی تھی بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے اسلامی انقلاب کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے انقلابی کونسل کی تشکیل کا فرمان صادر کیا ۔ اس کونسل کا اہم ترین فریضہ شاہ کی حکومت کے خلاف عوام کی تحریکوں میں ہم آہنگی لانا اور اسلامی انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانا تھا ۔ حضرت امام خمینی (رح) نے اس سلسلے میں ایک فرمان جاری کرکے فرمایا : مسلمان ایرانی عوام کا مطالبہ صرف یہی نہیں ہے کہ شاہ چلا جائے اور شاہی نظام حکومت ختم ہوجائے بلکہ اسلامی جمہوریہ کی تشکیل تک جو قوم کی آزادی و خود مختاری اور سماجی عدل و انصاف کی ضامن ہے ایرانی قوم کی جد وجہد جاری رہے گی ۔ صرف ایک ایسی عادل اسلامی حکومت کی تشکیل کے ذریعے ہی جس کو عوام کی حمایت حاصل ہو اور جس میں پوری قوم کی نمائندگی ہو ، زراعت ، اقتصاد اور ثقافت کے شعبوں میں شاہی حکومت کے غلط اقدامات کی تلافی اور کمزور اور محنت کش طبقوں کے مفاد میں ایران کی تعمیر نو کی جا سکتی ہے ۔

واضح رہے کہ شاہی حکومت کے زوال کے بعد انقلابی کونسل نے قانون سازی کا فریضہ انجام دیا امام خمینی (رح)  کی طرف سے انقلابی کونسل کی تشکیل کے جواب میں 24دی ماہ 1357 ہجری شمسی(14-1-1979) کو شاہ ایران نے کہ جس میں اسلامی انقلاب کی پر تلاطم امواج کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی ۔ اپنے چند سیاسی آلہ کاروں کو شاہی کونسل کی تشکیل پر مامور کیا تا کہ اپنے خیال میں بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کو کم کرسکے اپنے اس اقدام کے ذریعے شاہ  ایران کی مجاہد قوم کو فرسودہ شاہی نظام کو باقی رکھنے پر قائل کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن ایران کی آگاہ و بیدار قوم نے شاہی حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی حمایت کا اعلان کیا اسی دوران فوج کی بھی ایک کثیر تعداد شاہ کے مخالفین میں شامل ہوگئی  جس نے تمام سازشوں اور منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔

 

Jan ۱۱, ۲۰۱۷ ۰۷:۰۷ UTC
کمنٹس