ہیومن رائٹس واچ نے یمن میں سعودی حکومت کے جرائم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس ملک میں بین الاقوامی تحقیقات کرائے جانے کو ضروری قرار دیا ہے

ہیومن رائٹس واچ نے  کہا ہے کہ یمن میں سعودی حکومت کے مسلسل جرائم کے پیش نظر اس کی جانب سے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں تحقیقات کرانے اور سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ بند کرنے کی ضرورت ہے - ہیومن رائٹس واچ نے شمالی یمن میں ایک اسکول کے قریب سعودی جنگی طیاروں کے فضائی حملے کی ڈاکومینٹری تیار کرنے پر مبنی  اپنے اقدام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سعودی عرب کا نام ایک بار پھر جنگ میں بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والی حکومت کے طور پر اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کی تیار کردہ فہرست میں شامل کرنے پر تاکید کی ہے - سعودی عرب کا یہ حملہ گذشتہ جنوری کے مہینے میں انجام پایا تھا اور اس میں دو طالبعلم شہید اور تین دیگرزخمی ہوگئے تھے - ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطی کے امور کی انچارج سارہ لی واٹسن نے اس حملے کے بارے میں کہا کہ سعودی عرب کا نام جنگ میں بچوں کے حقوق پامال کرنے والی حکومتوں کی فہرست سے نکالنے کے بعد اس ملک نے ایک بار پھر یمن کے اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں - سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے جمعرات کوبھی  صنعا میں ارحب کے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا تھا کہ جس میں دس خواتین اور بچوں کی شہادت کے ساتھ ہی دسیوں یمنی شہری زخمی ہوگئے تھے -

Feb ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۶ UTC
کمنٹس