چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے پرحکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق پیر کو سینٹ کے اجلاس میں رضاربانی نے وزیردفاع خواجہ آصف سے کہا کہ سابق آرمی چیف کی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے کی اطلاعات ہیں، اس بارے میں وزیردفاع کے بیان کی ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے نفی کی ہے، اس اہم تقرری کے تناظر میں کسی بھی رٹائرڈ افسر کی دوبارہ مدت ملازمت حاصل کرنے کے قواعدوضوابط سے ایوان کو آگاہ کیا جائے، بتایا جائے وہ مسلم عسکری اتحاد کے سربراہ کیسے بنے؟ اگر کوئی این او سی جاری کیا گیا ہے اورکس نے جاری کیا ہے  اس سے بھی ایوان کو آگاہ کیا جائے، کیا اس معاملے پر وفاقی حکومت کو اعتماد میں لیا گیا؟

چیئرمین سینیٹ نے وزیرقانون زاہد حامد کو ہدایت کی کہ مشیر خارجہ کوکہا جائے کہ وہ ایوان کو بتائیں کہ سابق آرمی چیف کی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے کے خارجہ پالیسی اور اس معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی اختیار کردہ پوزیشن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیردفاع نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کل بدھ کو ایوان میں اس معاملے کی تفصیلات پیش کردیں گے۔ در ایں اثنا پاکستان کےوزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عرب عمرے پر گئے ہیں،وہ اسلامی افواج اتحاد کی سربراہی کریں گے یا نہیں مجھے اس بارے میں کوئی بھی اطلاعات نہیں ہیں۔جب وہ سروس میں تھے تو سعودی عرب کی خواہش تھی کہ وہ سربراہی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف اگر یہ عہدہ سنبھالیں گے تو وہ ملکی مفاد میں کوئی شرط بھی رکھیں گے،فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کی مشاورت اور قانون و آئین کے مطابق کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے اشاروں پر مسلمان ملکوں کے خلاف خونریز جنگیں شروع کر رکھی ہیں جس سےعالم اسلام میں تفرقہ پھیل گیا ہے۔ سعودی عرب دلدل میں پھنس گیا ہے اور یہ دیگر اسلامی ملکوں منجملہ پاکستان کو بھی اس دلدل میں کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شام، عراق اور یمن میں سعودی عرب کی مجرمانہ کارروائیوں کے قابل مذمت ہونے کے باوجود یہ بعید لگتا ہے کہ راحیل شریف فوجی میدان میں یمن کے خونی دلدل سے سعودی حکام کو نجات دلا پائیں گے لھذا سعودی حکام اپنے نام نہاد اتحاد کے ساتھ اپنی شکست خوردہ ساکھ کو سدھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

Jan ۱۰, ۲۰۱۷ ۰۴:۵۳ UTC
کمنٹس