پاکستان کی سپریم کورٹ میں پناما لیکس معاملے پر سماعت منگل کو بھی جاری رہی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مفروضے کی بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل قرار دینا خطرناک عدالتی نظیر ہو گی-

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں استفسار کیا کہ کیا قانونی معیار پر پورا نہ اترنے والی دستاویزات پر فیصلہ کرنا درست ہو گا؟-

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تقریر کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا اور کوئی بھی تقریر دستاویز کی جگہ نہیں لے سکتی- ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے معاملہ آئینی طور پرنااہل قرار دینے کا ہے- 

منگل کو بھی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیئے- انہوں نے دعوی کیا کہ لندن فلیٹس روز اول سے ہی شریف خاندان کے ہیں-

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم جھوٹ بولتا ہے تو اس کو مستعفی ہونا پڑتا ہے-

بنی گالا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری جدوجہد وزیراعظم بننے کے  لئے نہیں ہے اس کے لئے اور طریقے ہوتے ہیں-

Jan ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۵:۲۲ UTC
کمنٹس