پاکستان کےوزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف نے 39 مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کی سربراہی سے متعلق وزارت دفاع یا جی ایچ کیو کو آگاہ نہیں کیا۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی سربراہی میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران  پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی سعودی عرب کی سربراہی میں 39 ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت کرنے کے معاملے میں پالیسی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ راحیل شریف کو سعودی عرب کے شاہی خاندان کی جانب سے عمرے کی دعوت دی گئی  اورانہوں نے عمرہ پر جانے کی اطلاع دی تھی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل(ر)راحیل شریف عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس آچکے ہیں اورابھی تک انہوں نے سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کرنے سے متعلق جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کو کوئی درخواست نہیں دی اور نا ہی راحیل شریف کی جانب سے اس قسم کی پیشکش کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے سینیٹ کو بتایا کہ عسکری اداروں کے افسران ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کی ملازمت کے لیے وزارت دفاع سے لازمی کلئیرنس لینے کے پابند ہوتے ہیں، عام طور پر ریٹائرڈ افسران ملک کےاندرہی نوکری چاہتے ہیں لیکن اب غیر ملکی ملازمت لینے سے متعلق بھی قواعد میں ترمیم کی جائے گی۔

اس موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ کو بتایا کہ راحیل شریف کی اسلامی ممالک کی فوج کی سربراہی کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں، راحیل شریف کو ابھی کوئی پیشکش نہیں ہوئی اس لئے ہماری خارجہ پالیسی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ مشیرخارجہ سرتاج عزیز کے بیان پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس نےاتحادی افواج میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا لیکن مشیر خارجہ کہہ رہے ہیں راحیل شریف کی تقرری پر صورت حال واضح نہیں۔ سعودی اتحاد بظاہر دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن اس اتحاد میں ایران اور دیگر ممالک کو الگ رکھا گیا ہے، اگر ایران نے اتحاد بنا کر پاکستانی جرنیل کو سربراہ مقرر کیا تو اچھے نتائج مرتب نہیں ہوں گے۔ کیاراحیل شریف کا10ماہ پہلےریٹائرمنٹ کااعلان کرناکوئی پیغام تھا۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی عدم شمولیت کا فیصلہ تاحال اپنی جگہ موجود ہے۔

دوسری جانب راحیل شریف کی سعودی اتحاد میں شرکت کرنے کے حوالے سے نکتہ چینی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اورجمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ اتحادی فوج میں راحیل شریف کی شرکت سے پاکستان کا غیر جانب دارانہ کردار متاثر ہوگا، پاکستان کو تمام اسلامی ممالک میں عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس اقدام سے اس کی یہ مسلمہ حیثیت مجروح ہو گی۔ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف اتنا بڑا قدم بغیر حکومت کی رضامندی کے نہیں اٹھا سکتے۔ لہذا حکومت بتائے کہ اتنے بڑے اقدام کی اس نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری حاصل کی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف صاحب صرف اپنا احسان چکانے کیلئے پاکستان کی اس مسلمہ حیثیت کو مجروح نہ کریں۔

سنی اتحاد کونسل کے تھنک ٹینک کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ پاکستان کو ایران سعودی کشیدگی میں فریق نہیں بننا چاہیئے۔

 

Jan ۱۲, ۲۰۱۷ ۰۵:۵۹ UTC
کمنٹس