بزرگ صوفی لعل شہباز قلندر کی درگاہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد سیہون شریف میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں -

دہشت گردانہ حملے کے دوسرے روز مشتعل مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو بھی آگ لگا دی - مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بند کرنے کی بھی کوشش کی -  پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کا استعمال کیا-  مشتعل مظاہرین پولیس کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے لعل شہباز قلندر کے مزار پر پہنچے- پو لیس کی جانب سے روکے جانے  کے باوجود مظاہرین مزار کے اندر داخل ہوگئے - مظاہرین تعلقہ اسپتال سیہون کے احاطے میں بھی پو لیس اور دہشت گردی کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور ڈنڈے لہراتے رہے بعد ازاں مظاہرین نے اے ایس پی آفس کا گھیراؤ کیا اور باہر کھڑی پولیس وین کوآگ لگا دی - جمعرات کی شام لعل شہباز قلندرکے مزار کے احاطے میں ایک دہشت گرد نے خود کش دھماکے سے خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود 80 زائرین جاں بحق ہوگئے جبکہ 250 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں - اس واقعے کی پاکستان اور عالمی سطح پر مذمت کی  جارہی ہے - سیہون تعلقہ اسپتال کے ایم ایس کے مطابق وہاں موجود 75 لاشوں میں سے 13لاشوں کی اب  تک شناخت نہیں ہوسکی ہے- اس درمیان پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی مزاروں پر سیکورٹی سخت کردی گئی ہے کراچی میں عبداللہ شاہ غازی اور لاہور میں بی بی پاک دامن کے مزاروں کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے -  

 

Feb ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۵۶ UTC
کمنٹس