Sep ۲۸, ۲۰۱۵ ۱۳:۱۵ Asia/Tehran
  • نواز شریف کی بان کی مون سے درخواست
    نواز شریف کی بان کی مون سے درخواست

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے درخواست کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں بان کی مون کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اس علاقے میں استصواب رائے کرانے کی بھی اپیل کی۔ انھوں نے اس ملاقات میں کنٹرول لائن پر ہندوستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ریفرینڈم کرایا جانا چاہیے تاکہ اس علاقے کے عوام پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔

ہندوستان ان قراردادوں کو مسترد کرتا ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور ساتھ ہی وہ کسی بھی طرح مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے زیرانتظام کشمیر کو اس کے حوالے کر دے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب پاکستان انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کے تحت کہ کشمیر مسلمان اکثریتی علاقہ ہونے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا، اس علاقے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پر آپس میں کئ جنگیں بھی کر چکے ہیں اور اس وقت دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار اور جدید ترین میزائل موجود ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی قسم کی جنگ کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ہندوستان کی جانب سے کشمیر کنٹرول لائن پر دیوار کی تعمیر اور اس علاقے کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش، کشمیر کو مکمل طور پر اپنا حصہ بنانے کے ہندوستان کے پروگرام کا ایک حصہ ہے کہ جس کی پاکستان نے کئی بار مخالفت کی ہے۔ پاکستان، ہندوستان کے برخلاف مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتا ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ اہم بین الاقوامی اداروں کو اس کے حل میں مدد دینے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے یہ توقع ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں گے۔ کشمیر برصغیر میں ایک اسٹریٹجک علاقہ ہے اور علاقے کے ممالک کے ساتھ اس کی سرحدیں ملی ہوئی ہیں اور ہندوستان کی نطر میں جس ملک کے پاس بھی کشمیر کا علاقہ ہو گا اس کے ہاتھ میں علاقے کی سلامتی اور اس کے آئندہ حالات کی نبض ہو گی۔

اسی بنا پر ہندوستان کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بنا برایں پاکستان کو توقع ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد پر تاکید کر کے برصغیر میں پائیدار قیام امن میں مدد دے گا۔

ٹیگس

کمنٹس