Feb ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۴ Asia/Tehran
  • یمنی عوام کے سعودی عرب کے دباؤ میں اضافے پر عالمی ادارہ خوراک کا ردعمل

عالمی ادارہ خوراک نے یمن کے لئے اس ادارے کی انسان دوستانہ امداد کے حامل جہاز کو روکے جانے کے سعودی عرب کے اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاض کی جانب سے اس ملک کے ہمہ گیر محاصرے کی مذمت کی ہے-

اقوام متحدہ سے وابستہ عالمی ادارہ خوراک نے منگل کو ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ ہماہنگی کے باوجود سعودی عرب کی بحری فوج نے گیارہ فروری کو ایک غیر قانونی قدم اٹھاتے ہوئے یمن کے عوام کے لئے اس ادارے کی ضروری اشیاء پر مشتمل امدادی سامان لے جانے والے جہاز کو روک لیا اور جہاز پر موجود سامان یمن کی الحدیدہ بندرگاہ تک نہیں پہنچنے دیا-

عالمی ادارہ خوراک نے اپنے اس بیان میں اس ادارے کے جہاز پر اسلحہ موجود ہونے کے بارے میں نام نہاد عربی اتحاد کی فوج کے کمانڈر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس جہاز پر روزمرہ کی ضرورت کا امدادی اور مواصلاتی ساز و سامان تھا جو عالمی ادارہ خوراک کی ہماہنگی سے الحدیدہ بندرگاہ پرمنتقل کیا جانا تھا-

یمن کے لئے بین الاقوامی امدادی سامان پہنچائے جانے کے سلسلے میں سعودی عرب کی رخنہ اندازی ایسے عالم میں جاری ہے کہ گذشتہ ہفتے یمن کے لئے اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کے امور کے کوارڈی نیٹر مک گولڈریک نے اس راز سے پردہ اٹھایا تھا کہ سعودی عرب نے ایک خط بھیج کر اس ادارے سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن کے لئے انسانی ہمدردی پر مبنی امداد روک کر اس ملک سے اپنی امدادی ٹیم واپس بلا لے-

اقوام متحدہ کے اس عہدیدار نے یاد دہانی کرائی کہ یمن کے لئے اقوام متحدہ کی امداد روکنے کے لئے سعودی عرب کی شرمناک درخواست ایسے عالم میں سامنے آئی ہے کہ یمن میں آل سعود اور اس کے ایجنٹوں کے حملوں میں شدت آنے کے وجہ سے اس ملک میں رونما ہونے والے انسانی المیے کا اندازہ ناقابل تصور ہے-

یمنی حکام کے بقول سعودی عرب اور آل سعود کے علاقائی حامیوں کی جانب سے یمن کے فضائی اور بحری حملوں سے صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ پٹی میں مقیم فلسطینیوں کے ہمہ گیر محاصرے کی یاد تازہ ہو جاتی ہے-

یمن پر سعودی عرب کے حملوں میں شدت اور اس کا ہر طرف سے محاصرہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ بین الاقوامی ادارے بالخصوص خود اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے بارہا یمن پر حملوں کا سلسلہ بند کئے جانے پر تاکید کرتے ہوئے حملے جاری رہنے کے انجام سے خبردار کیا ہے-

اقوام متحدہ کی رپورٹوں کی مطابق مارچ دوہزار پندرہ میں یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے آغاز سے جو اس کے بعض اتحادی ممالک کی حمایت سے انجام پا رہے ہیں ، اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ یمنی شہری شہید اور تقریبا اٹھائیس ہزار زخمی ہو چکے ہیں- اس بیچ یمن میں تقریبا پچیس لاکھ افراد در بدر ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے-

یمن کے مظلوم عوام پر فوجی ، سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود اس ملک کے عوام سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے خلاف اور تمام سیاسی گروہوں کی مدد سے ملک میں قومی اتحادی حکومت تشکیل دینے اور خود مختاری کے لئے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی حمایت میں مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں-

ٹیگس