Jan ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۱ Asia/Tehran
  • یمن کے خلاف آل سعود کی جارحیت بدستور جاری

یمن کے نہتے عوام پر آل سعود کی مجرمانہ کارروائیوں کو داخلی اور عالمی سطح پر کافی میڈیا کوریج مل رہی ہے۔ یمن کے خلاف آل سعود کی وحشیانہ کارروائیوں میں کافی شدت آئی ہے۔

اس سلسلے میں یمن کے اقتصادی تحقیقاتی مرکز نے کہا ہے کہ یمن کے اسّی فیصد لوگ شدید مسائل کا شکار ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے یمن میں سعودی عرب کے ہاتھوں آئے دن نہتے عوام کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب کی مجرمانہ کاروائیوں کے بارے میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹوں سے رائے عامہ اس امر کے خطرناک نتائج کی طرف متوجہ ہوچکی ہے کہ آل سعود یمن کے بے گناہ عوام کے خلاف کلسٹر بم اور فاسفورس کے گولے استعمال کر رہی ہے جو ممنوعہ  ہتھیار ہیں۔ مغرب کے دیئے ہوئے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے یمن کے عوام میں جلد کی شدید بیماریاں اور سرطانی رسولیاں ظاہر ہورہی ہیں،خاص طور سے بچے ان بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ جس امر کی بنا پر آل سعود یمن کے مظلوم عوام پر نہایت ہی انسانیت سوز جرائم ڈھا رہی ہے وہ سعودی عرب کا مقابلہ کرنے میں اقوام متحدہ کا کمزور موقف ہے مثال کے طور پر ا قوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون نے بچوں کی قاتل حکومتوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکال دیا تھا اسی  بنا پر سعودی عرب کی حکومت یمن کے نہتے عوام کے خلاف اپنے انسانیت سوز اقدامات جاری رکھنے میں زیادہ گستاخ ہوگئی ہے۔

دنیا میں امن و سکیورٹی کی حفاطت کرنے والی نام نہاد یہ تنظیم یمن کے عوام کی حمایت کرنے کےبجائے سعودی عرب کی لابیوں کے زیر  اثر آل سعود کے جرائم کو نظرانداز کر رہی ہے جبکہ یمن پر آل سعود کے حملوں میں عام شہری، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل میں، ہزاروں کی تعداد میں جاں بحق اور زخمی ہو رہے ہیں۔اس بات سے قطع نظر کہ یمن میں جان بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں اقوام متحدہ اور یمن کی رپورٹوں میں کافی فرق دکھائی دیتا ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے نصف بتائی گئی ہے جو یمنی ذرائع میں آئی ہے۔ البتہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دی گئی اس تعداد سے بھی سعودی عرب پر امن و صلح کے خلاف کارروائیاں اور انسانیت سوز اقدامات کرنے کے الزامات لگائے جاسکتے ہیں۔

ایسے حالات میں اقوام متحدہ کا ادارہ سعودی عرب کے خلاف جو ایک اہم ترین اقدام کرسکتا ہے وہ سعودی عرب کو انسانیت سوز اقدامات، امن و صلح کے خلاف اقدامات اور جنگی جرائم کا ارتکاب  کرنے کے الزام میں عالمی فوجداری عدالت بھیج سکتا ہے۔ عالمی فوجداری عدالت کے آئین میں آیا ہے کہ فوق الذکر تین طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملک کے حکام کا قانونی تحفظ ختم ہوجاتا ہے۔ چونکہ سعودی عرب نے عالمی فوجداری عدالت کے آئین پر دستخط نہیں کئے ہیں لھذا اسے عالمی فوجداری عدالت میں پیش کرنے کا کام اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل یا سلامتی کونسل کو کرنا چاہیے۔ البتہ یہ بہت بعید لگتا ہےکہ سلامتی کونسل سعودی عرب کے جرائم کی فائل کو عالمی فوجداری عدالت میں پیش کرے گی بالخصوص امریکہ جوکہ یمن پر آل سعود کی جنگ کا حامی ہے۔ ایسے حالات میں اب سب کی نگاہیں اقوام متحدہ کے نئے سکریٹری جنرل پر ٹکی ہوئی ہیں تاکہ انہوں نے اقوام متحدہ کو مزید فعال کرنے کے جو وعدے کئے تھے انہیں وہ آل سعود کی جارح حکومت کے خلاف ٹھوس تدبیر اپنا کر اور یمن میں سعودی عرب کے جرائم کا خاتمہ کرکے پورا کریں۔

 

ٹیگس