• امریکی حمایت میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاھو نے جمعرات کو کہا ہے کہ غرب اردن میں صیہونی بستیوں کی تعمیر پر مبنی اپنے وعدوں پر وہ عمل کریں گے-

بنیامین نتنیاہو نے مشرق وسطی میں امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیسن گرینبلات کے ساتھ دوسری ملاقات سے قبل کہا کہ انہیں امید ہے کہ  صیہونی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ اتفاق رائے طے پا جائےگا- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے کے وقت سے ہی صیہونی حکومت کی گستاخیوں میں دوچنداں اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر بند کئے جانے کے سلسلے میں قرارداد جاری کئے جانے کے باوجود  ہر روز فلسطینیوں کی زمینوں پر نئی کالونیوں کی تعمیر کے نئے نئے منصوبوں کی منظوری دی جا رہی ہے- صیہونی حکومت کے لئے امریکہ کی مسلسل حمایتیں جاری رہنے کے ساتھ ہی، امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بجٹ میں کمی کرنے کے سلسلے میں اس ملک کے صدر نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں صیہونی حکومت کو دی جانے والی ہتھیاروں کی امداد شامل نہیں ہے-

صیہونی حکومت کی توسیع پسندی میں شدت ایسی حالت میں آئی ہے کہ امریکہ نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کے لئے سالانہ بلاعوض امداد میں اضافے کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کی طرف اسرائیلی حکومت کو سالانہ تین ارب ڈالر بلاعوض امداد دی جاتی ہے جس کا بڑا حصہ فوجی ساز وسامان پرخرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ سالانہ اربوں ڈالر آسان شرائط پراسرائیل کوقرض دیتا ہے جن سے اسرائیلی حکومت مغربی ملکوں کے جدیدترین اسلحے خریدتی ہے۔ اگرچہ صیہونی حکومت کے موجودہ سمجھوتے کے مطابق امریکہ اسرائیل کو سالانہ تین ارب ڈالر کی امداد دیتا ہے لیکن نئے سمجھوتے کی بنیاد پر امریکہ ، اسرائیل کو اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دس سالہ فوجی امداد کا نیا پیکج فراہم کرے گا-  یہ ایسی حالت میں ہے کہ نئے مالی پیکج کے استعمال میں اسرائیل کو کھلی چھوٹ ہوگی اور امریکی کانگریس اس رقم میں ہر سال مزید اضافہ کرے گی- اسی تناظر میں صیہونی حکومت نے امریکہ سے بلاعوض فوجی امداد میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور 2018 سے 2028 کے درمیانی برسوں میں بیالیس سے پینتالیس ارب ڈالر تک اضافے کا مطالبہ کیا ہے کہ جس پر امریکہ نے بھی اپنی موافقت ظاہر کی ہے- امریکہ مختلف صورتوں میں جارح اور غاصب صیہونی حکومت کو مسلح کرنے کے درپے ہے اور واشنگٹن کے اس طرح کے اقدامات گویا اپنے مظالم جاری رکھنے کے لئے صیہونی حکومت کو ہری جھنڈی دکھانے کے مترادف ہیں جن کے سبب یہ غاصب حکومت روز بروز گستاخ ہوتی جا رہی ہے-         

امریکہ نے بڑی تعداد میں اسرائیل کوبھاری اورجدیدترین اسلحے فراہم کئے ہیں جن کا  کوئی حساب نہیں ہے ۔ ان اسلحوں میں وہ غیرقانونی اسلحے بھی شامل ہیں جن کا استعمال جنیوا کنونشنوں کے سراسرمنافی ہے ۔ غزہ پراسرائیل نے اپنی بائیس روزہ جارحیت کے دوران جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی بچے شہید ہوئے تھے فاسفورس بموں کا استمال کیا تھا جس کی تصدیق ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی کی تھی۔ ایک قابل غورنکتہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کوبڑی تعداد میں یہ اسلحے ایک ایسے وقت فراہم کئے جارہے ہیں جب پوری دنیا کے عوام جن میں امریکی عوام بھی شامل ہیں یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ اسرائیلی حکومت پراسلحہ جاتی پابندی عائد کی جائے ۔آج پوری دنیا کے عوام اسرائیل کی وحشیانہ اوردہشت گردانہ کاروائیوں کے جاری رہنے کے پیش نظر امریکہ کواسرائیلی جرائم میں برابر کا شریک سمجھ رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اگرامریکہ اورمغربی ملکوں کی حمایت نہ ہوتی تو اسرائیل ایک دن بھی اپنا منحوس وجود باقی نہیں رکھ سکتا تھا - یہی وجہ ہے کہ افغانستان اورعراق پرامریکہ کی وحشیانہ جارحیتوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام پر امریکہ کی ہی سرپرستی میں ہونےوالی بربریت کے پیش نظرعالمی رائے عامہ میں، واشنگٹن سے نفرتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ البتہ جس طرح سے اسرائیل اورامریکہ کے خلاف نفرتوں کا لاوا پھوٹ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے وہ دن دور نہیں ہے جب اسرائیل اس آگ میں بھسم ہوجائے گا اوراس کا حامی امریکہ بھی اپنا دامن اس آگ سے نہیں بچا پائے گا ۔     

Mar ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۵:۲۱ UTC
کمنٹس