حکومت پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ قراردیئے جانے کے بعد ہندوستان نے سخت رد عمل دکھایا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قراردیا ہے۔

ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے گلگت بلتستان کو صوبہ قراردینے کے فیصلے کو یکطرفہ فیصلہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ کشیمر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔

واضح رہے کہ انیس سو سینتالیس سے، جب سے ہندوستان اور پاکستان کو آزادی حاصل ہوئی ہے، یہ ممالک کشمیر کی ملکیت کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں اور اسی مسئلے پر دومرتبہ جنگ بھی کرچکے ہیں۔ بر صغیر ہند کی تقسیم کے مطابق کشمیر چونکہ مسلم علاقہ تھا لھذا اسے پاکستان سے ملحق کیا جاناتھا لیکن اس کی اسٹریٹیجک پوزیشن اور صنعت سیاحت کے لحاظ سے اہمیت کی وجہ سے ہندوستان کی تازہ تاسیس حکومت نے برطانوی فوج کی مدد سے یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ کشمیر کے مقامی حکام نے مدد کی اپیل کی ہے اپنی فوجیں بھیج دیں ۔ پاکستان بھی جسے تازہ تازہ آزادی ملی تھی اس نے ہندوستان کو جارح قراردیا اور ہندوستان کے ساتھ جنگ کرنے لگا۔ یہ جنگ آخر کار اقوام متحدہ کی مداخلت اور جنگ بندی قائم ہونے کے بعد رک گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کرکے کشمیر میں  استصواب رائے کرانے کا فیصلہ کیا لیکن اب جبکہ اس فیصلے کو ستر برس گزر گئے ہیں ہندوستان کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے بحران کشمیر حل نہیں ہوسکا بلکہ اس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں شدت بھی آگئی ہے۔ کشیمر میں استصواب رائے کرانے یا کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کرنے پر ہندوستان کی مخالفت سے اس علاقے کا بحران مزید شدید ہوگیا ہے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ ہندوستان اپنے فوجی راستوں سے اس خطے کے عوام پر اپنی حکومت تسلیم کروانے میں ناکام رہا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان اور پاکستان اپنے اپنے زیرانتظام کشمیر میں نرم پالیسیاں لاگو کررہے ہیں تا کہ اپنی پوزیشن کو مضبوط کرسکیں لیکن اس پر بھی فریقین ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں۔ دو برسوں پہلے سے ہندوستان نے کشمیر میں ہندوؤں کو بسا کر اس علاقے کی آبادی کا تناسب بگاڑنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ باہر سے آنے والوں کو اب کشمیر میں تجارتی اور زرعی زمینیں خریدنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس پر کشمیر کے گروہوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ اسی  کے ساتھ ساتھ حکومت ہندوستان نے بیرونی سیاحوں کے لئے سیاحتی پروگراموں میں اضافہ کیا ہے اور ان پروگراموں سے لگتا ہے کہ نئی دہلی اس علاقے کی ثقافت کو بھی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان نے بھی ایک منصوبہ  بنایا ہے جس کے تحت اس نے گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ قراردیا ہے اور اس علاقے کو مکمل طرح سے کشمیر سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ یہ منصوبہ نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے بنایا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طاقت کے توازن اور دونوں ملکوں کے ایٹمی ہتھیار کا حامل ہونے کے  پیش نظر دونوں ممالک کشیمر کے سلسلے میں ہر طرح کی جنگ کے خطروں سے مکمل طرح سے آگاہ ہیں لہذا ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے اپنے نرم پروگراموں پر عمل کرکے اس خطے میں اپنے اقتدار کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہندوستان کے زیر کنٹرول کشیمر کے عوام ہندوستان کی فوجی موجودگی کی مخالفت کرنا چھوڑدیں گے بلکہ کشمیر کے عوام بدستور چاہتے ہیں کہ ان کے خطے کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے سے حل کیا جائے۔  

 

Mar ۱۸, ۲۰۱۷ ۱۲:۲۰ UTC
کمنٹس