ہندوستان کی بری، بحری اور فضائیہ روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی۔ یہ فوجی مشقیں دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات میں فروغ لانے کے لئے روس میں انجام پائیں گی۔

 

ہندوستان کی بری، بحری اور فضائیہ روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی۔ یہ فوجی مشقیں دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات میں فروغ لانے کے لئے روس میں انجام پائیں گی۔ہندوستان ان فوجی مشقوں میں ٹی نائٹی جنگی ٹینک اور سوخوی تھرٹی طیاروں کا استعمال کرے گا۔ اس کے علاوہ بحری جنگی جہاز بھی استعمال ہوں گے۔ ہندوستان کی جانب سے علاقے اور علاقے کے باہر کے ملکوں سے فوجی مشقیں کرنے کا مقصد اپنی افواج کی آمادگی برقرار رکھنا اور اس میں بہتری لانا ہے تا کہ مختلف خطروں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ ہندوستان کی فوج کی اسٹریٹجی ہے۔

ہندوستان نے دوہزار پندرہ میں خلیج بنگال میں جاپان اور امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔ ہندوستانی ذرائع نے کہا ہے کہ سمجھوتے کے  مطابق یہ فوجی مشقیں اب ہرسال ہوا کریں گی۔اگرچہ ہندوستان نے پہلی مرتبہ دوہزار سات میں اپنی آبی حدود میں کثیر القومی فوجی مشقوں میں  شرکت کی تھی لیکن نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد دوہزار چودہ سے فوجی تعاون کے تحت اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی مشقیں کرنا ہندوستانی حکومت کے خاص پروگراموں میں شامل ہوچکا ہے۔ دیگر ملکوں کے ساتھ فوجی مشقیں کرنا بالخصوص انٹلیجنس کی اس وارننگ کے بعد کہ سمندر کے راستے دہشتگرد ہندوستان پر حملے کرسکتے ہیں مودی حکومت کے ایک اہم پروگرام میں تبدیل ہوچکا ہے۔

ہندوستان کی حکومت کی نظر میں ان فوجی مشقوں میں ہندوستانی افواج مختلف خطروں منجملہ سمندری ڈاکوؤں کے مقابل اپنی آمادگی کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر ملکوں کو اپنے تجوبوں سے آگاہ کرسکتی ہیں۔ البتہ دیگر ملکوں کے ساتھ ہندوستان کی فوجی مشقوں  پر چین اور پاکستان خاص حساسیت ظاہر کرتے ہیں۔ حکومت چین نے دوہزار پندرہ میں امریکہ اور جاپان کے ساتھ ہندوستان کی فوجی مشقوں پر منفی ردعمل ظاہر کیا تھا، بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ چاپان اور امریکہ چین کے رقیب ہیں اور چین کے خلاف مخاصمانہ موقف رکھتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی مشقوں سے ہندوستان کا ایک اور ہدف دیگر ملکوں بالخصوص بڑے ملکوں خاص طور سے چین اور پاکستان کو آگاہ کرنا ہے کیونکہ ہندوستان چین اور پاکستان سے مختلف مسائل میں اختلافات رکھتا ہے۔ لہذا اب جاپان اور امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی ہرسال ہونے والی فوجی مشقیں ہندوستان کے لئے فوجی ثمرات کے علاوہ سیاسی طور پر پاکستان اور چین کے لئے اہم پیغام کی حامل بھی ہیں کیونکہ یہ دونوں ممالک ہندوستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ ہندوستان ایسے حالات میں روس کے ساتھ فوجی مشقیں کرے گا کہ اس سے پہلے وہ روس کے ساتھ چھے بار فوجی مشقیں کرچکا ہے۔ فوجی مشقوں کے اس سلسلے میں آخری بار راجستھان میں فوجی مشقیں کی گئی تھیں۔ روس کی نظر میں بھی ہندوستان کے ساتھ فوجی مشقیں کرنا اولین ترجیح رکھتا ہے وہ اس طرح نئی اقتصادی طاقتوں کے ساتھ امریکہ سے رقابت کا توازن برقرار رکھ کرہندوستان کی ہتھیاروں کی منڈی میں اپنا حصہ زیادہ رکھ سکے گا۔   

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۶ UTC
کمنٹس