بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نبیل رجب نے امریکہ کی طرف سے سعودی عرب اور بحرین کو 105 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے پر تنقید کی ہے۔

نبیل رجب نے امریکہ کی طرف سے سعودی عرب اور بحرین کو اسلحہ فروخت کئے جانے کے معاہدے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ حکومت انسانی حقوق کی راہ میں حائل تمام مشکلات کو ختم کرنا چاہتی ہے، وہ بھی بحرین کو اسلحہ فروخت کرکے  جو یمن پر جاری جارحیت میں سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ سو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا اسلحہ سعودی عرب کو اور پانچ ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ بحرین کو فروخت کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے والا ہے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ آل خلیفہ حکومت بحرینی عوام کی سرکوبی کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلحے کی فروخت کو وسعت دینے کی ٹرمپ حکومت کی کوشش سے پتہ چلتا ہے کہ اسلحے کی تجارت کو، جس کو موت کی تجارت کہا جاتا ہے، امریکی حکام کے ایجنڈے میں پہلے سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اس طرح کا عمل علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بدامنی میں وسعت اور اسلحے کی دوڑ کی شدت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس طرح کا عمل یمن میں سعودی عرب کی سرکردگی میں، جس میں بحرین بھی شامل ہے، نام نہاد عرب اتحاد کی مداخلت اور جارحیت میں ہونے والی شدت میں واضح طور پر قابل مشاہدہ ہے نیز اس طرح کی صورت حال نے ڈکٹیٹر حکومتوں کو، مثال کے طور پر آل خلیفہ حکومت کو، بحرینی عوام کی سرکوبی میں شدت پیدا کرنے کے سلسلے میں مزید گستاخ بنا دیا ہے۔

بحرین میں 14 فروری سنہ 2011ع سے آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوامی انقلابی تحریک جاری ہے۔ قانونی حکومت اور ایک منتخب نظام کی تشکیل، امتیازی سلوک کا خاتمہ، سیاسی اصلاحات، انسانی حقوق کی پاسداری، عدل و انصاف کی برقراری اور مغرب پر انحصار کا خاتمہ بحرینی عوام کے اصل مطالبات ہیں۔ بحرینی عوام جمہوریت نہ ہونے سے ناخوش ہیں اور امتیازی سلوک کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت اور عوام کے درمیان پایا جانے والا بنیادی فاصلہ اپنی بقا اور تحفظ کے لئے علاقائی اور غیر علاقائی رجعت پسند عناصر، خاص طور سے سعودی عرب، اور امریکہ سمیت مغربی حکومتوں پر آل خلیفہ کے انحصار کا سبب بنا ہے۔ علاوہ ازیں، بحرین کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک پوزیشن اور اس کے تیل کے ذخائر کی وجہ سے بھی مغربی تسلط پسند طاقتیں وہاں اپنے اثر و رسوخ کے تحفظ اور تسلط کے درپے رہی ہیں۔ ادھر بحرینی حکام بحرینی عوام کے جائز مطالبات پر توجہ دینے اور بحران میں کمی کے لئے ان کے ساتھ تعاون کے بجائے عوام کی انصاف پسندانہ اور حریت پسندانہ آواز کو خاموش کرنے کے لئے مغرب، خاص طور سے امریکہ، کی مدد و حمایت پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔

بحرینی عوام کے شہری و سیاسی حقوق کی پامالی پر مبنی آل خلیفہ حکومت کی داخلہ پالیسی اور علاقے میں اغیار کے مفادات کی تکمیل اور مغرب، خاص طور سے امریکہ، کی قربت حاصل کرنے پر مبنی اس ڈکٹیٹر حکومت کی خارجہ پالیسی نے، جو بحرین میں ان کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی تسلط کا باعث بنی ہے، بحرینی عوام کو آل خلیفہ حکومت سے شدید متنفر کردیا ہے۔

دریں اثنا مغربی حکومتیں بھی، جو جمہوریت کی حمایت کا دم بھرتی ہیں، خلیج فارس علاقے کے عرب ممالک پر تسلط کے اپنے مفادات کے دائرے میں انسانی حقوق کی وسیع پامالی پر تنقید کے بجائے آل خلیفہ حکومت سمیت عرب حکام کی سیاسی، فوجی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بحرین سمیت خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کی وجہ سے امریکہ بحرین میں اپنے مفادات کے پیش نظر خود کو آل خلیفہ حکومت کے تحفظ کا پابند سمجھتا ہے۔

بہرحال، آل خلیفہ حکومت نے مغرب کی وسیع حمایت کے سائے میں بحرینی عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کردیا ہے اور یہ امر آل خلیفہ اور اس کے مغربی حامیوں، خاص طور سے امریکہ، کے تئیں بحرینی عوام اور رائے عامہ کی نفرت میں اضافے کا سبب بنا ہے۔

 

May ۱۹, ۲۰۱۷ ۱۲:۲۵ UTC
کمنٹس