• سعودی عرب میں اقتدار کی رسہ کشی آل سعود کے زوال کا پیش خیمہ

سعودی عرب کے بادشاہ کی جانب سے اقتدار پر زیادہ سے زیادہ قبضہ جمانے اور اقتدار مستقبل میں اپنے بیٹے کو منتقل کرنے پر مبنی اقدامات میں شدت پیدا کرنے کے بعد آل سعود کے سینیئر شہزادوں نے ان اقدامات کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے اس ملک کے بادشاہ کو مخاطب کر کے ایک طومار پر دستخط کئے ہیں۔ اس طومار کی خبر ٹوئیٹر پر وائرل ہوگئی ہے۔

یہ خبر سابق ولیعہد مقرن بن عبدالعزیز کے دفتر کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے چند دن قبل بعض فیصلے کئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کےنتیجے میں موجودہ ولیعہد محمد بن نائف دیوار کےساتھ لگ جائیں گے اور محمد بن سلمان کے بادشاہ بننے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ان میں سے ایک فیصلے کا تعلق اٹارنی جنرل کو مکمل طور پر خود مختار بنانا ہے۔ جس کے نتیجے میں موجودہ ولیعہد سے اٹارنی جنرل کے کام پر نگرانی کا اختیار چھن گیا ہے۔ اور اب اٹارنی جنرل کو مکمل طور پر خود مختار بنا دیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے یہ فیصلہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو اپنے بعد بادشاہ بنانے کے مقصد سے کیا ہے۔ اس سلسلے میں قابل توجہ بات موجودہ ولیعہد محمد بن نائف کے اختیارات میں کمی لانا اور محمد بن سلمان کو ولیعہد بنانے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ سعود المعجب کو اٹارنی جنرل بنانے اور اس کو براہ راست بادشاہ کے دفتر کے ساتھ رابطہ کرنےکی ہدایت دینے کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا رہا ہے خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ یہ شخص محمد بن سلمان کے قریبی افراد میں سے ہے۔

سعودی عرب کا نیا اٹارنی جنرل اپنے نئے اختیارات کے تحت تمام افراد اور شخصیات پر مقدمہ چلا سکتا ہے۔ بنابریں محمد بن سلمان کے تمام مخالفین خطرے کی زد میں ہیں۔ چھ مہینے قبل بھی سعودی عرب کے بادشاہ نے قومی سلامتی کے مرکز کے قیام کے ذریعے محمد بن نائف کے اختیارات کم کر دیئے تھے۔ محمد بن نائف کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ ان کے پاس اب کوئی اختیار باقی نہیں بچا ہے اور ان کے پاس ولیعہد اور وزیر داخلہ کے صرف  اعزازی عہدے ہی ہیں۔ سعودی عرب کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ محمد بن نائف کو عملی طور پر سیاست سے الگ کر دیا گیا ہے اور اس کی ایک وجہ امیر قطر کے ساتھ ان کے تعلقات کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ اقتدار پر زیادہ سے زیادہ قبضہ جمانے کے درپے ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران انہوں نے اپنے بیٹوں کو نئے عہدوں سے نوازا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے حکومت کے مخالفین سے سیاسی انتقام لینے کے لئے ہر تبدیلی سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے آل سعود کے سیاسی نظام میں جاری روایت کے برخلاف آل سعود میں اختلافات کو ہوا دی ہے۔ سعودی عرب کا سیاسی نظام بادشاہت سے عبارت ہے۔ اور اس میں اقتدار ایک بھائی سے دوسرے بھائی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ لیکن سلمان بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس روایت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں مشرق وسطی کے سیاسی امور کے ماہر محمد علی مہتدی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے بعد سعودی شہزادوں کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاہ سلمان سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے الزائمر  کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ اپنے ملک کے فیصلوں میں زیادہ کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔

آل سعود کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی میں شدت ایسی حالت میں پیدا ہوئی ہے کہ جب حالیہ برسوں کے دوران اس ملک میں حکومت مخالف احتجاج میں بھی شدت آئی ہے۔ ان تمام امور سے حکومت کا انتظام چلانے کے سلسلے میں آل سعود کی بوکھلاہٹ اور اس دقیانوسی حکومت کے تاریک مستقبل کی نشاندہی ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے بہت سے مبصرین کا بھی یہی کہنا ہے۔ اس سلسلے میں آل سعود کے بہت سے خفیہ پہلووں پر سے پردہ اٹھانے والے مجتہد نامی سعودی شہری کا کہنا ہے کہ آل سعود کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہونے کے بعد اس حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ آل سعود کے زوال کا وقت قریب آنے کے بارے میں مجتہد کا کہنا ہے کہ بہت سے مبصرین نے سعودی عرب میں رواں سال یا آئندہ سال کے دوران بڑی تبدیلیاں رونما ہونے کی پیشین گوئی کی ہے۔

Jun ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۸ UTC
کمنٹس