• سعودی عرب میں اقتدار کی جنگ، ملک سلمان کے باغیانہ اقدامات کا نتیجہ

اس ملک کے بادشاہ سلمان نے ،سعودی ولیعہد محمد بن نائف کو برطرف کرکے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نیا ولیعہد مقرر کردیا ہے-

اس سلسلے میں سعودی چینل العربیہ نے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن نائف کو ان کے عہدے سے برطرف کئے جانے اور محمد بن سلمان کو اس ملک کا ولیعہد بنائے جانے کی خبردی ہے- اس سے قبل خاندان سعود میں زبردست اختلافات کی خبریں شائع ہوئی تھیں- سیاسی حلقوں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران اعلان کیا تھا کہ سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز، اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو آئندہ دنوں میں تخت پر بیٹھانے کے حالات فراہم کر رہے ہیں اور اسی مقصد سے انہوں نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران، سابق ولیعہد محمد بن نائف کے بہت سے اختیارات ان سے سلب کرلئے تھے- 

سعودی بادشاہ نے نئی معزولی اورتقرریوں کے دوران نئے چار مشیروں کا بھی انتخاب کیا ہے جن میں سے دو کا تعلق آل شیخ سے ہے کہ جن کی نسبت وہابی انحرافی افکار کے بانی محمد بن عبدالوہاب سے ہے-  قابل ذکر ہے کہ سعودی بادشاہ کے توسط سے یہ نئی معزولی اور تقرریاں قطر کے ساتھ تعلقات منقطع ہونے کے بعد انجام پائی ہیں اور اس مسئلے سے ملک سلمان کے موقع سے فائدہ اٹھا جانے اور سیاسی حساب کتاب چکتا کرنے کے لئے بحرانی حالات سے فائدہ اٹھانے کی غمازی ہوتی ہے-

البتہ سعودی عرب میں مدنظر سیاسی تبدیلیاں لانے کی جانب، ملک سلمان کا تیزی سے قدم اٹھانا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ عرصہ قبل انجام پانے والے دورہ سعودی عرب سے لاتعلق بھی نہیں ہے اور ان  تبدیلیوں کے سلسلے میں واشنگٹن کا ہری جھنڈی دکھانا بھی ظاہر ہوتا ہے- بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں ٹرمپ کا وسیع پیمانے پر استقبال اور اسے بڑے فوجی اور اقتصادی معاہدوں کے ذریعے باج دینے سے سعودی بادشاہ سلمان کا ایک مقصد، اس ملک کی مدنظر تبدیلیوں میں امریکہ کو اپنا ہمنوا بنانا تھا- 

حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے سیاسی میدان میں تبدیلیوں کی نئی لہرسے اس امرکی غمازی ہوتی ہے کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اس ملک میں اقتدار پر مکمل تسلط حاصل کرنے اور اس ملک کو ماضی سے زیادہ وہابیت اور فرقہ پسندی کی نہج پر گامزن کرنا چاہتے ہیں- ان تبدیلیوں نے انتہاپسندانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات میں شدت پیدا کی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے غیر سنجیدہ اقدامات میں بھی اضافہ ہوا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن نائف کو برطرف کرکے اس کی جگہ اپنے بیٹے محمد کی تقرری کا ملک سلمان کا اقدام ، اس ملک میں اقتدار کی جنگ میں مزید شدت کا باعث بنے گا-

یہی وہ تشویشیں ہیں کہ جس کی بناء پر معزولی اور تقرری کا دائرہ صرف سیاسی میدان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ملک کی سلامتی کا مسئلہ بھی شامل ہوگیا ہے اور یہ مسئلہ شاہ سلمان کی جانب سے اقتدار پر مکمل طور پر قابض ہونے کے طریقہ کار میں روایت شکنی  کے سبب،  خاندان آل سعود کے ردعمل ظاہر کرنے کی بابت ملک سلمان کے خوف وہراس کو ظاہر کر رہا ہے لیکن سعودی اقتدار سنبھالنے کے وقت سے ملک سلمان کے اقدامات، آل سعود کے سیاسی نظام میں ایک بدعت شمار ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ آل سعود حکومت کے لئے منفی نتائج کا حامل ہوگا -

قابل ذکر ہے کہ ملک سلمان کا بیٹا ایسی حالت میں ولیعد بنایا گیا ہے کہ سعودی خاندان کے بانی ملک عبدالعزیز کی وصیت اور منشور کے مطابق اقتدار بھائی کے ذریعے بھائی تک پہنچے اور جب تک ان کے بیٹے زندہ ہیں اقتدار، تیسری نسل تک نہ پہنچے- آل سعود 1932 سے سعودی عرب میں اقتدار سنبھالے ہوئے ہے اور ہمیشہ اس خاندان میں اقتدار کی جنگ ہوتی رہی ہے- حقیقت یہ ہے کہ خاندان سعود میں ہمیشہ دو گروہوں سدیری اور شمری کے درمیان تنازعہ رہا ہے۔  ان دونوں گروہوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری رہی ہے۔

عبدالعزیز کے مرنے کے بعد سدیری خاندان کے تین افراد تھے جن میں شاہ سلمان بھی شامل ہے اس وقت اگر یہ طے پا جائے کہ اقتدار سدیری خاندان میں ہی باقی رہے گا تو شمری خاندان کے افراد کہ جنہیں ملک سلمان کے برسر اقتدار آتے ہی اہم عہدوں سے برطرف کردیا گیا اور ایک طرح سے ان کا صفایا کردیا گیا ، آسانی سے اس مسئلے سے چشم پوشی نہیں کریں گے اور وہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کی بادشاہت کے عہدے پر قبول نہیں کریں گے اور یہ مسئلہ بھی سعودی خاندان میں ایک اور جنگ چھیڑ جانے کا باعث بن سکتا ہے-  

گذشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب میں ، اقتدار پر اپنا مکمل تسلط حاصل کرنے کے شاہ سلمان کے بغاوت آمیز اقدامات کے خلاف، آل سعود کے سینئر شہزادوں نے ایک طومار پر دستخط کئے ہیں- سعودی عرب میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ، خاندان آل سعود میں اختلافات کے برملا ہونے اور اس میں شدت آنے کے غماز ہیں کہ جس کے نتیجے میں اس حکومت کی بنیادیں متزلزل ہوں گی اور وہ مزید مضمحل ہوتی جائے گی-

Jun ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۲۶ UTC
کمنٹس