ایران کی مجلس شورائے اسلامی کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن نے خطے میں امریکہ کے مہم جویانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کے مقابلے کے بل کو حتمی شکل دے دی ہے۔

نو ابواب اور ستائیس شقوں پر مشتمل اس بل میں، کلیات، تعریفیں، اسٹریٹیجی کا تعین، دہشت گردی کے لیے امریکی حمایت، امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات، امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے مقابلے اور ایرانی شہریوں کی حمایت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ بل اتوار تیرہ اگست کو ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں بحث اور رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ایران کے ارکان پارلیمنٹ نے، امریکی کانگریس کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے جواب میں یہ بل تیار کیا ہے-

واضح رہے کہ امریکی سینٹ نے گذشتہ جون کے مہینے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جامع پابندیوں کے منصوبے کی منظوری دی تھی - یہ منصوبہ کہ جسے " ایران کے غیر مستحکم کرنے والے اقدامات سے مقابلے کا قانون دوہزار سترہ " کا نام دیا گیا ہے ، 98 موافق اور دو مخالف ووٹوں سے سینٹ میں منظور کیا گیا تھا-

 تفصیلات کے مطابق، امریکی مخالف بل کو قانونی شکل حاصل ہونے کے بعد ، ایرانی وزارت خارجہ، محکمہ دفاع، وزارت انٹیلی جنس، پاسداران انقلاب اسلامی،  اور آرمی ، باہمی تعاون اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے چھ مہینے کے اندر خطے میں امریکی مہم جوئی، ریاستی دہشتگردی، ایران مخالف عزائم، فوجی مداخلت، تکفیری اور انتہاپسندی کے فروغ کو روکنے کے لئے ایرانی پارلیمنٹ کو اپنی حکمت عملی اور تعمیری پالیسی سے آگاہ کریں گے- ایرانی پارلیمنٹ کے بل میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے وہ تمام حکومتی و عسکری اور جاسوسی ادارے کے اعلی حکام بالخصوص سابق امریکی وزیر خارجہ جو ایران مخالف سازش، داعش کو وجود میں لانے اور خطے میں دہشتگرد اور تکفیری عناصر کی پشت پناہی میں ملوث ہیں ان کو سزا ملنے والوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایٹمی معاہدے کے برخلاف عمل کرتے ہوئے اس کوشش میں ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والے چند فریقی معاہدے کو کمزور کرکے، اپنے زعم ناقص میں ایران کو مغربی ایشیاء کے اسٹریٹیجک علاقے کے لئے خطرہ ظاہر کریں - ٹرمپ حکومت اس کوشش میں ہے کہ ایٹمی معاہدے کو نظر انداز کرکے علاقے میں ایران کے اقدامات کے مقابلے کے بہاںے ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کردے اور پھر ایران پر دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ایران کے خلاف جامع پابندیوں کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائے- امریکی حکومت اپنی ذاتی کا رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی میزائلی صلاحیت اور اس کے تجربوں کو، اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتیس کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے جس سے اس کا مقصد ایران کو بدامنی سے دوچار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور اسی لئے وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو بھی جو ایران کے فوجی اقتدار میں اہم کردار کی حامل ہے ، اپنے بے بنیاد الزامات کا نشانہ بنا رہی ہے- 

ایسے حالات میں ایران کی پارلیمنٹ ، مجلس شورائے اسلامی نے امریکی کانگریس کے منصوبے کے مقابلے میں ایک جامع منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں اس نے مغربی ایشیاء کے علاقے میں، امریکہ کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت ، بے گناہ انسانوں کے قتل عام اور اندرون و بیرون ملک انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے مسائل کو اپنے ایجنڈے میں قرار دیا ہے- مجلس شورائے اسلامی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فوجی طاقت کی بھی حمایت کی ہے-  

سینٹ کے جامع منصوبے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو نشانہ بنایا جانا اور اسے دہشت گردی کا حامی قراردینا ، ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنانہ پالیسیوں کا غماز ہے- ایران پر ایسی حالت میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ خود امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے - امریکی سینٹ میں ایران کے عدم استحکام پھیلانے والے اقدامات کے مقابلے کے قانون دوہزار سترہ کی منظوری ایسے میں عمل میں آئی کہ امریکہ خود داعش جیسے دہشت گرد گروہ کو وجود میں لایا ہے اور اس کی پالیسیاں ، دہشت گردوں کی مالی و اسلحہ جاتی مدد و حمایت  اور علاقے میں عدم استحکام کی اصلی وجہ ڈکٹیٹر حکومتوں کی  پشتپناہی پر مبنی ہیں- 

امریکہ کے سیاسی امور کے ماہر مائیک ہریس نے آٹھ اگست کو پریس ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ علاقے میں جنگی جرائ‏م کا مرتکب ہوا ہے کہا کہ امریکی فوج، عراق اور شام میں داعش دہشت گردوں کی حمایت کر رہی ہے -

 سعودی عرب بھی امریکی حمایت کے زیر سایہ ہرروز یمن کے بے گناہ عوام کا امریکی ہتھیاروں سے قتل عام کر رہا ہے اور اس کےعلاوہ وہابی طرز فکر، علاقے اور دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دینے کا اصلی عامل ہے-     

Aug ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۵ UTC
کمنٹس