امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف دھمکی میں اضافے کے ساتھ ہی ، مشرقی ایشیا میں ممکنہ جنگ کے تعلق سے عالمی برادری میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی تناظر میں یورپ اور یوریشیا کے دو اہم ملک یعنی جرمنی اور روس نے اس بارے میں خبردار کیا ہے- جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ان دوںوں ملکوں کے درمیان لفظی جنگ ایک غلط رویہ ہے - روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ماسکو میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ شمالی کوریا پر امریکہ کا یکطرفہ حملہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ لاوروف نے کہا کہ ہم پیونگ یانگ کے نیوکلیئر میزائل ایکشنز کو قبول نہیں کرتے کہ جو اقوام متحدہ کی قراردوں کی خلاف ورزی ہے-  سرگئی لاوروف نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف کوئی بھی یکطرفہ کارروائی نہیں کی جائے گی، جیسا کہ ہم نے حال ہی میں شام میں دیکھی۔

رشین ملیٹری اسٹڈیز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ہر قسم کے حملے کے مقابلے میں سخت مزاحمت کا مظاہرہ کرنے کے لئے آمادہ ہے- یوکرین کے مسئلے پر جرمنی اور روس کے درمیان اختلافات کے باوجود ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ یورپ اور یوریشیا کے یہ دونوں بڑے ملک، مشرقی ایشیا جیسے اسٹریٹیجک علاقے میں وسیع جنگ کے امکان سے پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال اور ان کے نتائج کے بارے میں مشترکہ نقطہ نگاہ رکھتے ہیں- جزیرہ نمائے کوریا کے مسائل کے ماہر " کنسٹینٹین آسمالوف"  کے بقول سرد جنگ کے دور میں بھی جزیرہ نمائے کوریا میں اس وقت جیسی خطرناک صورتحال پیش نہیں آئی تھی کہ جو تیسری عالمی جنگ کےلئے آغاز ہو- اگرچہ یہ دونوں ملک مختلف نقطہ نگاہ سے اور اپنے مفادات کے پیش نظر امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین موجودہ بحران جاری رہنے کی روک تھام میں کوشاں ہیں تاہم ان کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ جنگ واقع ہونے سے روکنا ہے- 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ کوئی غیر دانشمندانہ اقدام نہ اٹھایا جائے کیونکہ امریکی فوج اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بالکل تیار ہے۔  اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے خلاف دھمکی آمیز بیانات جاری رہنے کی صورت میں سے شمالی کوریا کو واشنگٹن کے غضب کی ایسی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا جو دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ ٹرمپ نے پیونگ یانگ سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو نہ دھمکائے- البتہ امریکہ کی موجودہ حکومت اس کوشش میں ہے کہ شمالی کوریا کو بھرپور جنگ کی دھمکی دینے کے ذریعے، پیونگ یانگ اور اس کے سیاسی اتحادیوں منجملہ چین اور روس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے- اسی سبب سے ٹرمپ نے غیرمعمولی لہجے میں شمالی کوریا کو بھرپور اور تباہ کن جنگ کی دھمکی دی ہے- 

امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور ساتھ ہی سیکڑوں ایٹمی وار ہیڈز بھی ہیں جس کے سبب وہ اس بات پر قادر ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ جنگ میں اس ملک کو بھاری اور ناقابل تلافی نقصان پہنچائے- اس کے ساتھ ہی امریکہ بھی شمالی کوریا کے انتقام سے محفوظ نہیں رہے گا-  اس کے علاوہ کہ شمالی کوریا اس وقت امریکہ کی ریاستوں آلاسکا ، ہاوائی اور مغربی ساحل کی ریاستوں کو میزائل سے  نشانہ بنا سکتا ہے، علاقے میں امریکہ کی فوجی چھاؤنیوں پر بھی حملہ کرسکتا ہے- امریکہ کے ایک لاکھ سے زائد فوجی ، جاپان اور جنوبی کوریا میں تعینات ہیں کہ جو شمالی کوریا کے انتقامی حملوں کے لئے مناسب اہداف ہوں گے- بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ جنگ کی صورت میں دوسری عالمی جنگ کے برابر جانیں ضائع ہوں گی-

ساتھ ہی یہ کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ کی صورت میں، امریکہ کے دو اتحادی ملک یعنی جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہوجائیں گے اور اس جنگ میں چین کی بھی شمولیت کا امکان بڑھ جائے گا - عالمی تجارت میں جاپان، چین اور جنوبی کوریا کا نمایاں حصہ ہونے کے پیش نظر، مشرقی ایشیا میں کسی بھی قسم کی فوجی کاروائی، عالمی معیشت کو تباہ کردے گی اور امریکہ بھی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوگا- 

مشرقی ایشیا میں تباہ کن جنگ کے ہولناک نتائج کے پیش نظر ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں عملی نہیں ہوں گی اور وہ صرف پیونگ یانگ اور بیجنگ کو مرعوب کرنے کے لئے یہ دھمکیاں دے رہے ہیں- اس کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے اس حد تک دھمکی دیا جانا بھی ممکن ہے مشرقی ایشیا کے حساس علاقے میں کشیدگی بڑھ جانے اور امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے حالات فراہم کردے-

Aug ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۷ UTC
کمنٹس