• بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی مذہب مخالف پالیسیاں

ماہ محرم الحرام کی آمد کے موقع پر آل خلیفہ حکومت بحرین میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر رہی ہے-

بحرین کے سیکورٹی اداروں نے، علماء و خطباء اور فعال مذہبی افراد کو طلب کرکے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محرم کے پروگرام ویسے ہی منائیں جیسا کہ منامہ کی حکومت چاہتی ہے- آل خلیفہ کی حکومت نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماہ محرم کے پروگراموں میں منامہ حکومت کے جاری احکامات کی خلاف ورزی کی گئی اور اسے نظر انداز کیا گیا تو اس کا نتیجہ شکنجے اور زندان کے سوا کچھ نہیں ہوگا- آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے عوام کے حقوق پامال کرنا محض پرامن مظاہروں کو کچلنے، شہریت سلب کرنے اور سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانے نیز علماء اور مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلانے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ آل خلیفہ اپنے وحشیانہ اقدامات سے عوام کے اظہار رائے کی آزادی کے حق اور دینی اعتقادات کو بھی کچلنے لگی ہے-

بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے نائب سربراہ یوسف المحافظہ نے بحرین میں سوشل میڈیا کے صارفین کی گرفتاریوں پر افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ان افراد کی گرفتاری سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس ملک میں آزادی بیان پر اب ماضی سے زیادہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ آئین میں آزادی بیان کی ضمانت دی گئی ہے لیکن بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی طرف سے اس حق کو پامال کیا جا رہا ہے۔  انہوں نے کہا  کہ آل خلیفہ کے کارندے سوشل میڈیا کے ذریعے تشدد اور انتہا پسندی کو ترویج دے رہے ہیں لیکن ان پر نہ مقدمہ چلایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کو سزا دی جاتی ہے لیکن حکومت کے خلاف پُر امن  احتجاج اور اس پر تنقید کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان پر ظلم کیا جارہا ہے ۔

حالیہ برسوں میں بحرین کے حالات سے پتہ چلتا ہےکہ آل خلیفہ حکومت، عوام کے دینی عقائد اور ان کے عزم و ارادے سے خائف ہے کیونکہ عوام کے دینی عقائد ہی ان کی انقلابی تحریک کے پشت پناہ ہیں اور عوام ان ہی کے سہارے آگے بڑھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت ہمیشہ سے حقیقی اسلام کی تعلمیات بالخصوص تشیع کی حریت پسندانہ اور ترقی پسند تعلیمات کو اپنی آمریت کے سامنے رکاوٹ سمجھتی آئی ہے کیونکہ یہ تعلیمات ہر طرح کے تسلط قبول کرنے کی نفی کرتی ہیں۔

آل خلیفہ کی حکومت عوام کے اعتقادات پر حملے کرکے انہیں اپنی تسلط پسندانہ پالیسیاں تسلیم کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے لیکن آل خلیفہ کی جانب سے عوام کی اسلامی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور مقدسات کی توہین کرنے کے اقدامات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ بحرینی عوام کی تحریک تیزی سے آگے بڑھتی جائے۔ بحرینی عوام نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ مقدسات کی بے حرمتی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ بحرین کے عوام سن دوہزار گیارہ سے اپنی تحریک کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اپنے ملک میں سیاسی اصلاحات، قانونی حکومت اور جمہوری اصولوں کے مطابق آزاد انتخابات کرائے جانے نیر مذہبی تعصب کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران بحرینی شہریوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کو قانونی بنانے کے لئے آل خلیفہ حکومت کے جاری اقدامات اور انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر جاری کھلی خلاف ورزیاں، اس بات کا باعث بنی ہیں کہ بحرینی عوام نے حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے - جیساکہ چودہ فروری دو ہزار گیارہ سے اس ملک میں آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاجات اور جارحانہ  اور وحشیانہ اقدامات کے مقابلے میں بحرینی عوام کی استقامت کا سلسلہ جاری ہے۔ بحرین کے عوام اپنے ملک میں جمہوریت و آزادی اور انصاف کے قیام کے خواہاں ہیں اس لئے کہ اس ملک کی آل خلیفہ حکومت نے آزادی بیان، ملک میں پرامن احتجاجات نیز سیاسی گروہ یا جماعت تشکیل دیئے جانے پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

بحرین کی حکومت پر کسی بھی طرح کی تنقید کرنے پر بھی پابندی  ہے۔ اس ملک میں قانونی و سیاسی سرگرمیاں مکمل محدود ہیں اور اس ملک کے بہت سے شہریوں کو بحرین میں قانونی، سیاسی و اقتصادی اصلاحات کی ضرورت کے بارے میں کسی بھی قسم کا اظہار خیال کئے جانے پر آل خلیفہ کی عدالتوں میں قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی جانب سے عمل میں لائے جانے والے اس طرح کے اقدامات سے اس کی ظالمانہ اور جارحانہ ماہیت آشکار ہوجاتی ہے۔ اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت حال اتنی ہی زیادہ سخت اور خراب ہے کہ کوئی بھی دیکھنے والا اپنے پہلے ہی مشاہدے میں ان خلاف ورزیوں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور انسانی حقوق کی موجودہ صورت حال سے اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔

اس بات کا بحرین کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں بخوبی مشاہدہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جاری کی جانے والی تازہ ترین رپورٹوں میں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال، دو ہزار سترہ میں اور زیادہ بدتر ہوئی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پرتاکید کی ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق بحرین کی آل خلیفہ حکومت کا کارنامہ، دنیا میں انسانی حقوق کا ایک سیاہ ترین کارنامہ ہے۔  

 

  

Sep ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۲:۲۴ UTC
کمنٹس