• ٹرمپ کے ایران مخالف اقدامات کے ساتھ خلیج فارس کے عرب ملکوں کی یکسوئی

ایران اور ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواقف اور لفاظیاں، خلیج فارس کے عرب ملکوں کے لئے خوشی کا باعث بنی ہیں اور اس مسئلے سے واضح ہوجاتا ہے کہ علاقے میں ایران کے موثر اور فیصلہ کن کردار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایٹمی معاہدہ تو محض ایک بہانہ ہے-

علاقے میں ایران کے موثر کردار اور مشترکہ جامع ایکشن پلان یا وہی ایٹمی معاہدے کے خلاف ٹرمپ کی رجز خوانیوں کے ساتھ ہی سعودی عرب اور بحرین نے بھی بیک آواز ہوکر امریکی صدر کے ایران مخالف مواقف کی حمایت کی ہے- سعودی عرب اور بحرین کی حکومتوں کے نمائندوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ہر وہ فریق جو ایران مخالف موقف اختیار کرے ، ریاض اور منامہ اس کی حمایت کریں گے- اس مسئلے سے پتہ چلتا ہے کہ ان ملکوں کا اصل مقصد ایٹمی معاہدے کو نشانہ بنانا نہیں ہے بلکہ یہ ایٹمی سمجھوتہ ایک بہانہ ہے تاکہ اس کی آڑ میں ایران کی علاقائی پالیسی کو نشانہ بنائیں- سب یہ بات جانتے ہیں کہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے پابند ہونے سے متعلق تائید یا عدم تائید کا امریکہ کو کوئی حق نہیں پہنچتاہے اوریہ امریکہ کا داخلی قانون نہیں ہے بلکہ یہ صرف آئی اے ای اے کا ادارہ ہے جو ایٹمی معاہدے پر نگراں ہے اور اسی کو اس کی تائید کا حق حاصل ہے- اس بین الاقوامی ادارے نے اب تک آٹھ مرتبہ اس بات کی  تائید کی ہے کہ ایٹمی معاہدے کی ایران نے پابندی کی ہےاوریورپی ملکوں ، چین اور روس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کا پابند ہے- 

 اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں جوہری معاہدے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط مفروضوں اور جارحانہ رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ ، سلامتی کونسل سے تصدیق شدہ اور دنیا میں تخفیف اسلحہ معاہدے کے بہتر نفاذ کے لئے ایک عالمی معتبر سند ہے-

ٹرمپ کی حکومت نے ایران مخالف اپنے اقدامات تیز کردیے ہیں اور وہ ایران کی علاقائی پالیسیوں پر شدید نالاں ہیں- اور یہی مسئلہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ امریکی حلقوں میں ایران پر مزید دباؤ بڑھانے نیز میزائلوں اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر پابندی عائد کرنے کی بات ہو رہی ہے- علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موثر اور فیصلہ کن کردار منجملہ شام اور عراق میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مشیروں کی موجودگی نے امریکہ ، سعودی عرب اور اسرائیل کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے- ایران کے خلاف ٹرمپ کا غصہ، اور ایٹمی معاہدے پر یلغار سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مغربی ایشیا کے اسٹریٹیجک علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں کی پالیسیاں شکست سے دوچار ہوچکی ہیں- 

 حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی حمایت، اور علاقے میں اس کے شرکا کی یمن کے بے گناہ اور نہتے عوام پر آئے دن کی مجرمانہ جارحیت  سے، مشرق وسطی میں بدامنی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ہمیشہ سے پس پردہ رہ کر علاقے میں بحران پیدا کئے ہیں لیکن بعض عرب حکام نے بھی حقائق پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔بحرین جو کہ ایک ملین کی آبادی کا ایک چھوٹا سا ملک ہے اور جو متعدد مسائل کا شکار بھی ہے وہ دوسروں پر الزام لگاتا ہے اور ایران کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ لیکن علاقے کی رائے عامہ بھی جانتی ہے کہ بحرین کے حکام کے اقدامات، امریکہ اور نیتن یاہو کے اشاروں پر انجام پارہے ہیں۔

علاقے کے بعض ظالم حکام صیہونی حکومت کے اہداف کے راستے پر چل رہے ہیں اور انہوں نے ایسی حکومت کی سمت دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے کہ جو علاقے میں تمام اختلافات اور فتنوں کا سبب ہے۔ ان تمام اقدامات کا ہدف ایران پر دباؤ ڈالنا ہے۔ سعودی عرب اور بحرین کے حکام یہ تصورکرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات ان کے فائدے میں ہیں ، لیکن اسرائیل کی نگاہ میں وہ اپنے ان اقدامات سے، پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ صیہونی حکومت  علاقے میں اختلافات کو ہوا دے رہی ہے جو آخرالامر اسی کے فائدے میں ہے۔ بہرحال صیہونی حکومت علاقے میں طرح طرح کے بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے تا کہ خود اس پر دباؤ کم ہوجائے اور لوگ اسے فراموش کردیں۔ سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک  دراصل امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ سازش کا نتیجہ ہیں اور اس مرحلے میں بحرین سمیت عرب ملکوں میں ایران کی مداخلت کے الزام لگا کر اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ 

اسرائیل اور امریکہ کا ہدف علاقے کے ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات میں خلل ڈالنا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے بعض علاقائی ملکوں کو اپنی چالوں میں پھنسا کر علاقے کی سکیورٹی اور علاقائی ملکوں کے اتحاد کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ ان ملکوں کی ثروت و دولت عراق، شام اور یمن میں جنگوں اور دہشتگردوں کی مالی حمایت کرنے میں خرچ ہورہی ہے۔ دوہزار تین سے عراق میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی مداخلت اور اس کے بعد شام میں مداخلت سے علاقہ ، دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ اور عدم استحکام کا مرکز بن گیا ہے ۔ یہ سلسلہ نہیں رکے گا مگر یہ کہ علاقے کے بعض ممالک بیدار ہوجائیں اور حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں اور بے بنیاد دعوے اور الزامات لگانے کے بجائے اپنی کارکردگی کی اصلاح کرلیں۔

اتوار کے روز ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی امریکہ اور علاقے کے ملکوں کی باتوں کو خاطر میں نہ لانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دوسروں کی بیان بازی کو خاطر میں لائے بغیر علاقے میں اپنی تعمیری پالیسیوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔

Oct ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۹ UTC
کمنٹس