• ایٹمی معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے ممکنہ فیصلے کی مخالفت کا سلسلہ جاری

ایران اور مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں امریکی حکومت کے مواقف کے اعلان کا وقت قریب آنے کے موقع پر واشنگٹن کی جانب سے اس ایٹمی معاہدے کی پابندی کے متعلق مشاورتوں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے۔

خبری ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہےکہ اس بات کا امکان پایا جاتاہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہ اکتوبر جمعرات کے دن اپنی تقریر کے دوران ایران کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی بیان کریں گے۔ اس کے تین دن بعد یعنی پندرہ اکتوبر کو امریکی کانگریس کے سنہ دو ہزار پندرہ میں منظور کردہ قانون کی بنیاد پر، کہ جو ایران کے ایٹمی معاہدے کے جائزے کے قانون کے نام سے معروف ہے، ایران کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی پابندی کئے جانے کے اعلان کے لئے نوے دن کی مدت شروع ہوجائے گی۔ عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اگرچہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے آٹھ بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی پابندی کی ہے لیکن اس کے باوجود ٹرمپ حکومت ایران کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی پابندی کئے جانے کی تصدیق نہیں کرے گی اور ایران کے ایٹمی معاہدے کے بارے میں فیصلے کا اختیار امریکی کانگریس کو سونپ دے گی۔ اس فیصلے کے بعد اگر امریکی کانگریس کی جانب سے ایران پر پابندیاں بحال کر دی گئیں تو سات ممالک ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے درمیان ہونے والا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔

امریکہ نے عالمی فیصلے کو چیلنج  کر دیا ہے جس کی وجہ سے امریکی حکومت پر وسیع پیمانے پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران دنیا کے تقریبا تمام ہی اہم اور موثر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بعض نے تو امریکی حکومت کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی جگہ جنگل کا قانون نافذ کرنے سے تعبیر کیا ہے جبکہ بعض نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے خاتمے کو آگ کے ساتھ کھیلنے کا نام دیا ہے۔

اس وقت مشترکہ جامع ایکشن پلان  دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کئے جانے کی کسوٹی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اگر امریکہ جیسا ملک ایک وقت میں دوسروں کے ساتھ معاہدہ کرے اور پھر حکومت کی تبدیلی کے بعد دوسری پالیسی اختیار کر لے اور بین الاقوامی معاہدے کو سبوتاژ کردے تو دنیا والوں کے لئے اس کا بہت خطرناک  پیغام جائے گا اور پھر دنیا میں کوئی بھی حتی واشنگٹن کے اتحادی بھی امریکی حکومت کے وعدوں پر اعتماد نہیں کریں گے اور عالمی سطح پر امریکہ پر عدم اعتماد کا ماحول پیدا ہوجائے گا خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جانب سے اس بات کی بارہا تصدیق کی جاچکی ہے کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل کیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین سمیت دنیا کے اکثر ممالک نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون اور دسیوں ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی بات کی ہے۔ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے امریکہ کے خارج ہوجانے یا اس پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی صورت میں ان ممالک کے اقتصادی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے اور وہ بھی اس دلیل کے ساتھ کہ اس معاہدے میں امریکہ کے قومی مفادات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ اس لئے مشترکہ جامع ایکشن پلان کا سرے سے خاتمہ یا کسی بھی طرح سے اس کو پہنچایا جانے والا نقصان امریکہ کا صرف ایران مخالف اقدام ہی نہیں ہوگا بلکہ اسے عالمی برادری کے خلاف واشنگٹن کے اعلان جنگ اور بین الاقوامی نظام پر امریکی تسلط پسندی کا زمانہ واپس پلٹنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

 

Oct ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۳ UTC
کمنٹس