• آئی اے ای اے کی رپورٹ، ایک بار پھر ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی تصدیق

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو نے اپنی نویں رپورٹ میں ایک بار پھر ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کئے جانے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے پر ایران کے توسط سے عملدرآمد نہ کئے جانے کی توثیق کے بعد آئی اے ای اے کی یہ پہلی رپورٹ ہے۔ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے اس رپورٹ میں جو اس بین الاقوامی ادارے کے اراکین کو ارسال کی گئی ہے اعلان کیا ہے کہ پانچ نومبر تک ایران میں کم افزودہ یورینئم کا ذخیرہ،  96.7 کیلو گرام کے برابر تھا کہ جو ایٹمی سمجھوتے میں معین کی گئی مقدار سے بہت کم ہے۔ آمانو کی نویں رپورٹ میں اسی طرح تاکید کی گئی ہے کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی کی شرح بھی ایٹمی معاہدے میں مقرر کی گئی شرح  سے اوپر نہیں گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اسی طرح کہا گیا ہے کہ ایران کے بھاری پانی کے ذخائر کی شرح 114.4 میٹریک ٹن کے برابر ہے کہ جو ایٹمی معاہدے میں معین کی گئی ایک سو تیس ٹن کی سطح سے کافی نیچے ہے۔

آمانو کی اسی رپورٹ میں اس امر کی بھی تصدیق کی  گئی ہے کہ ایران نے آئی اے ای اے کو یورینئم کی افزودگی کے عمل کی الیکٹرانک نگرانی کی بھی اجازت دے رکھی ہے تاکہ اس کے ذریعے ایٹمی سرگرمیوں کی معلومات معا‏‏ئنہ کاروں کو ملتی رہیں اور ان کا خودکار طریقے سے ریکارڈ کرنے کے علاوہ فیلڈ میں نصب کنٹرول کے دیگر آلات سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ موازنہ کیا جاسکے - جبکہ اس کے برخلاف امریکہ اپنے ایران مخالف بے بنیاد پروپیگنڈوں اور غیر منطقی بیانات کے ذریعے کسی ثبوت و شواہد کے بغیر یہ دعوی کر رہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدہ ایک ناقص اور محدود معاہدہ ہے اور اس کےبارے میں دوبارہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ 

امریکی حکومت کے مدنظر جو آپشن ہیں وہ یہ ہیں کہ آئی اے ای اے ایٹمی معاہدے پر سخت نگرانی کرے نیز فوجی سائٹوں کا معائنہ انجام دے۔ امریکہ نے دوہزر پانچ میں ایک خودساختہ رپورٹ شائع کرکے ایران کے ایٹمی پروگرام میں فوجی اہداف سے متعلق دعوے پیش کئے تھے لیکن وہ دعوے ہرگز صحیح ثابت نہ ہوسکے کیوں کہ محض خودساختہ دعوے تھے۔ 

ایٹمی امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی حکومت آشکارا طور پر اس کوشش میں ہے کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ کو نظرانداز کردے۔ مشترکہ جامع ایکشن پلان، اضافی پروٹوکول کے آرٹیکل پانچ اور سیف گارڈ معاہدے میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اس بات کی پابند ہے کہ اس کے رکن ممالک اسے جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ انھیں خفیہ رکھنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے۔

ایٹمی معاہدے کے متن میں واضح طور پر آئی اے ای اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تجارت، ٹیکنالوجی اور صنعت سے متعلق اسرار و رموز اور دیگر خفیہ معلومات کہ جو اس تک پہنچائی جاتی ہیں، ان کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔

ایران اور آئی اے ای اے کے باہمی اقدامات، بین الاقوامی معمولات اور فقط غیراعلان شدہ ایٹمی سرگرمیاں انجام نہ پانے کے اطمینان کے لیے انجام دیے جائیں گے اور یہ ملک کی حاکمیت کے احترام اور سیکورٹی اور فوجی اسرار کا تحفظ کرنے پر استوار ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بھی کہ جو مشترکہ جامع ایکشن پلان کی تائید میں منظور کی گئی، آئی اے ای اے کی جانب سے ان نکات کا خیال رکھنے پر زور دیتی ہے۔

لہذا ایران نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ آئی اے ای اے یا کسی بھی اور ادارے کو بین الاقوامی اصول و قوانین اور پروٹوکول سے ہٹ کر ایران کے فوجی مراکز کے معائنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ البتہ آئی اے ای اے کے سیف گارڈ معاہدوں کے ادارے کی اس سلسلے میں کی جانے والی کوششیں ایران کی نظروں سے پنہاں نہیں ہیں۔ ان حالات میں حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کوششوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔ بلا شبہہ ایٹمی معاہدے کا تحفظ اس بات پرمنحصر ہے کہ معاہدے کے تمام فریق اپنے وعدوں کی پابندی کریں ۔  

  

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۲ UTC
کمنٹس