• یمن کی صورتحال ابتر ہے، گوٹیرش کو ظریف کا خط

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک خط میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹیرش کے نام ایک خط میں، سعودی عرب کی جارحیت اور ہمہ جانبہ محاصرہ جاری رہنے کے سبب یمن کی صورتحال کو انتہائی بدتر اور تشویشناک قرار دیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آل سعود کی جانب سے یمن کا محاصرہ جاری رہنے کے سبب اس ملک میں انسانی المیہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، عالمی ادراوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موثر اور ٹھوس طریقے سے اس یک طرفہ اور احمقانہ جنگ کو ختم کرانے میں بھر پور کردار ادا کریں۔ یہ خط ایسی حالت میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام لکھا گیا ہے کہ تقریبا ایک ماہ قبل جارح سعودی اتحاد کا نام یمنی بچوں کو قتل کرنے کے سبب، بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور بچوں کے قاتل ملکوں کی فہرست میں ایک بار پھر شامل کرلیا گیا ہے۔ 

سعودی عرب کا نام گذشتہ سال بھی اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا لیکن بعد میں اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس لسٹ سے سعودی عرب کا نام نکال دیا تھا۔ اس وقت باخبر ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالا ہے اور اسے دھمکی دی ہے کہ وہ اس عالمی ادارے کے مالی ذرائع منقطع کردے گا۔  اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی عرب کا نام بچوں کی قاتل حکومت کی سیاہ فہرست سے نکالنے اور مغرب کی جانب سے سیاسی اور فوجی حمایت جاری رکھے جانے بالخصوص امریکہ اور صیہونی حکومت کی حمایت کے جاری رہنے  کے سبب، سعودی عرب کے ہاتھوں یمنی عوام کی نسل کشی جاری ہے۔ 

سعودی اتحاد ، یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے، چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کے نہتے اور بے گناہ عوام کو خاک و خون میں نہلا رہا ہے اور اب تک ان حملوں میں دسیوں ہزار افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں- سعودی حکومت کی جانب سے جنگ جاری رکھنے پر اصرار اور روزانہ یمن میں  بچوں اور عورتوں کا قتل عام جاری رکھنا جو کہ کم ترین وسائل و ذرائع کے سہارے آل سعود کی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کی تمام سازشیں نقش برآب کردی ہیں، سعودی عرب کی جنگ پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب کے حکام جنہوں نے پچیس مارچ دوہزار پندرہ کو یمن پر وحشیانہ جارحیت شروع کرنے سے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے میں یمن کی جنگ ختم کردیں گے، آج وہی اس جنگ کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گذرنے کے ساتھ ہی، وہ اپنے خود ساختہ دلدل سے نکلنے کے لئے مغرب کے انسانی حقوق کے دعویداروں امریکہ اور برطانیہ کے دیے ہوئے ہتھیاروں سے یمن کے نہتے باشندوں کے سروں پر بم برسارہے ہیں۔ 

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعویداروں نے بھی یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیتوں پر خاموشی اختیار کرکے سعودی عرب کے اتحاد کی جنگی مشینری کو جاری رکھا ہے۔  یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب کی جارحیت اور یمن کا محاصرہ ختم کرنا صرف جنگ بندی کی راہ سے ہی میسر ہوسکتا ہے لیکن یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے جاری رہنے سے مذاکرات کا کوئی روشن اور مثبت مستقبل تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جارحیت اور محاصرے کا جاری رہنا مفاہمت اور جنگ بندی سے ہرگز ساز گار نہیں ہے۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد نے کبھی بھی یمن میں جنگ بندی کی  پابندی نہیں کی ہے۔ یمن میں اقوام متحدہ کی کوششوں کے تحت متعدد مرتبہ جنگ بندی عمل میں آئی ہےلیکن سعودی عرب نے اپنی جارحیت جاری رکھی ہے ۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی جارحیت کی بنا پر  یمن میں ہر طرح کے امن مذاکرات ناکام رہے ہیں۔ آل سعود کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کی مخالفت اور اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے عالمی رائے عامہ اس امر کی طرف متوجہ ہوگئی ہے کہ سعودی عرب ہی جنگ بندی میں بنیادی رکاوٹ ہے اور اپنی خلاف ورزیوں اور مداخلتوں سے یمن میں بحران کے جاری رہنے کا سبب ہے، یہ ایسے عالم میں ہے کہ آل سعود نے یمن پر حملوں میں تیزی لاکر حالات مزید خراب کردیے ہیں اور وہاں محاصرے کے سبب قحط اور بھوک مری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ 

سعودی عرب کے لئے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ہر قیمت پر اپنے شیطانی اہداف کو حاصل کرنا ہے۔ حتی اگر یہ اہداف یمن میں ایک مظلوم قوم کو نابود کرنے کے ذریعے ہی کیوں نہ حاصل ہوں۔ لیکن ایران ان جارح اور مذموم عزائم کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھے گا۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام جواد ظریف کے خط کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔ 

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۸ UTC
کمنٹس