• کرمانشاہ کا زلزلہ، انتہائی غم و اندوہ اور ایرانی قوم کی ہمدردی کا مظہر

اتوار کی رات اسلامی جمہوریہ ایران کے ، عراق سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں آنے والے 7.3 ریکٹر اسکیل پر زلزلے نے ایران کے مغربی علاقوں خاص طور سے صوبہ کرمانشاہ میں تباہی مچا دی اور اب تک پانچ سو کے قریب افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مغربی ایران میں آنے والا یہ تباہ کن زلزلہ ایرانی قوم کے لئے انتہائی غم و اندوہ کا باعث بنا ہے اور آج منگل کے روز اسی مناسبت سے پورے ایران میں عام سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔  جبکہ سب سے زیادہ تباہی ایران کے صوبے کرمانشاہ میں ہوئی جہاں تین  روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اس زلزلے کے بعد اپنے ایک پیغام میں دل کی گہرائیوں سے اس ناگوار سانحہ پر ایرانی عوام خاص طور سے کرمانشاہ کے باشندوں اور سانحہ کے متاثرین کے اہل خانہ کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے خداوند متعال سے  ایرانی قوم کے لئے صبر و استقامت کی دعا کی۔ انھوں نے اپنے اس پیغام میں ایک بار پھر تاکید کی کہ جو بھی متاثرین کی مدد کرسکتا ہے وہ ان کی فوری مدد کرے۔  

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ فوج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور عوامی رضا کار فورس (بسیج) منظم طریقے سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور ملبے تلے دب جانے والوں کو نکالنے اور زخمیوں کو منتقل کرنے میں مدد کریں اور سرکاری، فوجی اور سول ادارے جاں بحق اور زخمی ہونے والوں اور اسی طرح متاثر ہونے والوں کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کریں۔ 

رہبر انقلاب اسلامی کے دفتر کی جانب سے حجۃ الاسلام و المسلمین عبدالحسین معزی کی زیرقیادت ایک وفد بھی، منگل کے روز زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ اور لوگوں کی صورت حال کا پتہ لگانے نیز متاثرہ لوگوں کی امداد کے عمل کا جائزہ لینے کے لئے کرمانشاہ پہنچا۔

اس خوفناک زلزلے کے بعد تمام حکام اور متعلقہ عہدیداروں نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مل کر متاثرین کی مدد کی ہے۔ ملک کے اعلی حکام اور فوجی سربراہوں منمجلہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری، ایران کی فوج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبدالرحیم موسوی نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال جاننے اور منصوبہ بندی کی غرض سے ان علاقوں کا دورہ کیا۔ 

دوسری جانب ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ حکومت، مسلح افواج اور عوام سب ہی کرمانشاہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے، جو زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرنے کے لئے منگل کی صبح کرمانشاہ کے دورے پر پہنچے تھے، نامہ نگاروں سے گفتگو میں سوگوار گھرانوں کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پوری توانائی کے ساتھ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہے اور ہر طرح سے سرگرم عمل ہے اور وہ مختصر مدّت میں مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گی۔انھوں نے کہا کہ کوئی ایرانی ایسا نہیں ہے جو کرمانشاہ کے عوام کی فکر میں نہ ہو اور سب کو چاہئے کہ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے کے لئے پوری توانائی کے ساتھ کام کریں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کے روز ایرانی قوم کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا تھا کہ ملک کے تمام حکام کو چاہئے کہ اپنی مکمل توانائی اور تمام وسائل و ذرائع کے ساتھ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں اور جلد سے جلد مشکلات حل کرنے کی کوشش کریں۔ 

ایران میں آنے والے زلزلے پر کئی ممالک نے امداد کی پیشکش کرتے ہوئے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئیٹ میں عالمی برادری کی جانب سے زلزلہ سے متاثر ہونے پر امداد کی پیشکش اور ہمدردی کے اظہار پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران فی الحال زلزلے سے متاثرین کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔

ایران میں زلزلے اکثر آتے ہیں یہاں کا علاقہ عمومی طور پر زلزلوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی وجہ عربین اور یوریشیا ٹیکٹانک پلیٹس کا باہم ٹکراؤ ہوتا ہے۔ جن ٹیکٹانک پلیٹس کے آپس میں چڑھ جانے کی بات کی گئی ہے اس طرح کی سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے جس کے مطابق عمارتوں کی تعمیر کے ذریعہ جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایران کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں زلزلے زیادہ آتے ہیں۔ ماضی میں بھی اس سرزمین پر زلزلے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ عراق میں بھی زلزلوں کی شدت نے عوام کو بے سرو ساماں کردیا ہے۔ ایران میں جن مقامات پر اتوار کو زلزلہ آیا یہ علاقہ عراق سے متصل سرحدی ایران کے قریب ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں زیادہ تر کچی عمارتیں ہوتی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ رودبار، بم اور اب کرمانشاہ جیسے بڑے زلزلوں میں سے ہر ایک اس بات کے لئے انتباہ ہیں تاکہ ایسے اقدامات عمل میں لائے جائیں کہ آئندہ دنوں میں ممکنہ زلزلوں کے تلخ نتائج میں کسی حد تک کمی لائی جا سکے -

 

 

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۸:۲۳ UTC
کمنٹس