•  شام سے ایران کے انخلاء کے لئے پس پردہ دباؤ

باوجودیکہ ایران ایک ایسے ملک کے طور پر جانا جاتاہے کہ جو فرنٹ لائن پر شام میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے، تاہم داعش کے پس پردہ حامیوں کی یہ کوشش ہے کہ دہشت گردوں کی نابودی سے قبل ہی ، مزاحمتی محاذ سے علاقے کو خالی کرانے کےلئے کوششیں بروئے کار لائیں اور اس طرح سے دہشت گرد عناصر کی واپسی کے لئے راستہ ہموار کریں۔

اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے چند روز قبل دیئے گئے اس بیان کے ردعمل میں کہ ایرانی افواج کو، چاہے وہ سپاہ ہو یا ایران کی حمایت یافتہ فورسیز ہوں ، شام کو چھوڑکر چلے جانا چاہئے، منگل کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شام میں ایران کی موجودگی کو قانونی بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا کے حمایت یافتہ مسلح باغی گروپس شام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے کہا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردوں کی حمایت اور عربوں اور مسلمانوں کی شبیہ خراب کررہا ہے۔  شامی مندوب نے کہا کہ سعودی عرب کی سرکردگی میں قائم عرب اتحاد دہشت گردوں کی حمایت اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے تشکیل پایا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے شام میں مارچ دوہزار گیارہ سے بحران پیدا کیا گیا ہے جس کا مقصد علاقے میں اسرائیل کی سیکورٹی کو یقینی بنانا تھا لیکن شامی فوج نے استقامتی فورس کی مدد سے پچھلے چند مہینوں کے دوران دہشت گردوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔

ایران ، روس اور ترکی نے آستانہ مذاکرات کے دوران شام میں استحکام کی بحالی کے لئے مثبت قدم اٹھائے ہیں اور اگر یہ مذاکرات انجام نہ پاتے تو اس وقت داعش گروہ اس طرح کمزور نہ پڑجاتا۔ ان مذاکرات کی کامیابی کے ردعمل میں، کہ جو دہشت گردوں کے اصلی حامی یعنی مغربی اور عرب فریق کے بغیر انجام پاچکے ہیں، قاتل محاذ اس کوشش میں ہے کہ داعش سے مقابلہ کرنے والی اصلی فورسیز یعنی حزب اللہ لبنان اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ہی مزاحمتی محاذ کو کمزور کردے اور علاقے میں دہشت گردوں کی واپسی کا راستہ فراہم کرے۔ 

شام سے مدافعین حرم کی واپسی کے بارے میں اظہار خیال ایسے میں کیا جا رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک بارہا کہا ہے کہ شام میں اس کے فوجی مشیر موجود رہے ہیں اور وہ شامی عوام کی مدد کے لئے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ تہران اگر ماسکو یا واشنگٹن کی درخواست پر اپنی فوج شام بھیجتا تو ظاہر سی بات ہے کہ وہاں سے اسے نکلنے کے لئے ماسکو اور واشنگٹن کی اجازت کی ضرورت بھی ہوتی، لیکن جب ایران جیسا خود مختارملک کسی بھی غیر ملک سے وابستگی کے بغیر اور خود ایک ملک کی حکومت کی درخواست پر اور اس ملک کے عوام کی ضرورت اور منشا کے مطابق ، اس ملک کا دفاع کر رہا ہے تو پھر اسے اپنی اس مدد و حمایت کے خاتمے کے لئے کسی بھی غیر ملک سے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

وہ ممالک کہ جو ان دنوں، داعش کا کام ختم ہونے کے سبب، شام سے ایران کے نکلنے کی بات کر رہے ہیں انہیں یہ وضاحت پیش کرنی چاہئے کہ آخر خود وہ کیوں علاقے سے اپنے فوجی اڈے نہیں سمیٹ رہے ہیں اور کیوں مختلف ملکوں سے اپنے فوجیوں کو باہر نہیں نکالتے؟۔  مثال کے طور پر افغانستان میں طالبان کا خاتمہ ہونے کے بعد کیوں اس وقت امریکی فوجی اڈہ اس ملک میں باقی ہے اور حتی اپنے فوجیوں کی تعداد میں وہ اضافہ بھی کر رہا ہے؟۔

واضح ہے کہ شام  سے ایران کے فوجی مشیروں کے نکل جانے پر بعض علاقائی اور بیرونی ممالک کی تاکید اس سبب سے ہے کہ ان ملکوں کو عالم اسلام میں ہمارے ملک کے اثرو رسوخ سے خوف و ہراس لاحق ہے۔ اس اثرو رسوخ نے عراق ، شام اور یمن میں عوامی رضاکار فورس کی صورت میں اپنی قوت و قامت کا بہترین انداز میں مظاہرہ کیا ہے اس لئے جب تک یہ فورسیز علاقے میں موجود رہیں گی، مغرب اور علاقے میں اس سے وابستہ رجعت پسند حکومتیں، علاقے کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار نہیں کرسکیں گی۔

Nov ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۴ UTC
کمنٹس