• سامراج  کے خلاف جنگ میں انقلابی جوانوں کی پرجوش موجودگی

رہبرانقلاب اسلامی نے بدھ کو رضاکار فورس بسیج کے ہزاروں جوانوں سے ملاقات میں فرمایا کہ مختلف میدانوں خاص طور سے سامراج کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کی پرجوش موجودگی اسلامی انقلاب کے معجزات میں سے ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ موجودگی انقلاب اور مقدس دفاع کے دوران کے جوش و خروش کی یاد تازہ کرتی ہے - آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ دشمن نے ہرطرف سے اپنی دشمنی تیز کردی ہے تاکہ انقلابی اور اسلامی افکار سے پیدا ہونے والی استقامت تباہ و برباد ہوجائے تاہم مومن و مجاہد نوجوانوں اور عوام نے داعش نامی تکفیری سرطانی پھوڑے کو ختم کردیا اور دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور ایک بار پھر" ہم کرسکتے ہیں" کے مفھوم کو سب پرثابت کردیا-

رہبر انقلاب اسلامی کا یہ بیان انقلاب اسلامی کے افکار کی مضبوطی و شادابی کا ثبوت ہے کہ جس کی بنیادیں اسلامی جمہوری نظام کے جوہر اور ماہیت میں پیوست ہیں اور یہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے تشخص کا عکاس ہے-

عصرحاضر میں آنے والے انقلابات کے سلسلے میں رائج نظریات اور تھیوری کے لحاظ سے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ انقلابی عناصر  نسلیں بدلنے کے ساتھ ہی ماند پڑجاتے ہے یا تبدیل ہوجاتے ہیں حتی انقلابی اصول منسوخ بھی ہوجاتے ہیں اور اس کی جگہ نئے افکار لے لیتے ہیں لیکن یہ تصور انقلاب اسلامی کے سلسلے میں درست نہیں ہے-

ملت ایران، عالمی سامراج ، صیہونیزم اور علاقے کی رجعت پسند حکومتوں کے طرح طرح کے دباؤ کے باوجود تقریبا چالیس برسوں سے انقلابی اقدار کے تحفظ کے لئے جد و جہد کررہی ہے اور ڈٹی ہوئی ہے-

بعض واقعات جو حالیہ چند برسوں میں داعش کی شکل میں علاقے میں بدامنی پیدا کرنے ، اسلامی انقلاب کو کنٹرول کرنے اور بیداری اسلامی کو منحرف کرنے کے لئے رونما ہوئے اس حقیقت کا سب سے واضح اور نمایاں ثبوت ہیں- رہبرانقلاب اسلامی نے داعش کی نابودی اور اس سرطانی پھوڑے کی نابودی کہ جو ملت ایران کی کامیابی کا ایک اور سنہری باب ہے، کا حقیقی عامل رضاکارانہ جذبات کو قرار دیا اور فرمایا کہ دشمنوں نے کوشش کی تھی کہ اس غیرانسانی تکفیری گروہ کے ذریعے استقامت کی راہ میں رکاوٹ ڈال دیں تاہم مومن نوجوان پورے جوش و خروش کے ساتھ میدان جہاد میں اترے اور دشمن کو دھول چٹا دی-

اس آئیڈیل اقدام نے ثابت کردیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا راستہ، اربوں ڈالر سے خریدے جانے والے اسلحے یا علاقے میں مغرب کا جھوٹھا اتحاد نہیں ہے-اگرچہ ابھی علاقے کے بعض رجعت پسند ممالک میں اپنی سیکورٹی اغیار کے حوالے کرنے کی غلط سوچ موجود ہے- جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے بیانات میں اشارہ فرمایا : بعض پڑوسی ممالک کو داعش کو ختم کرنے کی طاقت کا یقین نہیں تھا تاہم جب میدان میں اترے تو کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور انقلاب اسلامی کے اس پیغام پر کہ ہم کرسکتے ہیں، یقین کرلیا-

Nov ۲۳, ۲۰۱۷ ۰۸:۳۶ UTC
کمنٹس