• شام کے بحران کے سفارتی حل کے تناظر میں سوچی اعلامیہ

شام میں داعش دہشت گرد گروہ کا مسئلہ ختم ہونے کے بعد شہر سوچی میں اسلامی جمہوریہ ایران ، روس اور ترکی کے سربراہوں کا اجلاس ہوا کہ جس نے بحران شام کے سفارتی دائرے کو واضح کر دیا-

سوچی اجلاس کے ساتھ ہی سعودی عرب نے بھی ریاض میں بیرون ملک رہنے والے شامی مخالفین کو اکٹھا کرکے کوشش کی کہ ان سے اتحاد کے ساتھ ہی شام کے سیاسی بحران کے حل کے راستے پر قدم اٹھائے، ایک ایسا قدم کہ جوسوچی میں ایران، روس اور ترکی کے اعلامیے سے تضاد رکھتا ہے-

ایران کے صدر حسن روحانی ، روس کے صدر ولادمیر پوتین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کو سوچی اجلاس کے اختتام پر ایک بار پھر شام کی ارضی سالمیت ، اتحاد، خودمختاری اور اقتداراعلی کے تحفظ پر تاکید کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک ایک دوسرےسے تعاون جاری رکھیں گے - ایران ، روس اور ترکی کے سربراہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ وہ شامی عوام کے درمیان اتحاد کی بحالی ، شامی گروہوں کے درمیان شفاف ، منصفانہ ، آزاد اور وسیع البنیاد مذاکرات کے ذریعے اس ملک کے بحران کے سیاسی راہ حل کے حصول، شامی عوام کی حمایت سے آئین کی تیاری اور اقوام متحدہ کی مناسب نگرانی میں شام میں شرائط پرپورے اترنے والے افراد کی شرکت سے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں شامی عوام کی مدد کریں گے-

شام پر داعش کا تسلط ختم ہونے کے بعد سوچی اعلامیہ ایک طرح سے بحران شام کا سیاسی ایجنڈہ ہے اور یہ شام کے عوام کے مطالبات اور عزم  کے پیش نظر صحیح سفارتی راہ پر ترکی ، روس اور ایران کے گامزن ہونے کا ثبوت ہے - روحانی ، پوتین اور اردوغان کے درمیان ہونے والا سمجھوتہ شام کے سیاسی مستقبل کے لئے عوام کے مطالبات کا احترام ہے اور اسی تناظر میں اٹھائیس نومبر دوہزارسترہ کو روس کے شہر سوچی میں شامی گروہوں کے درمیان قومی کانگریس کا انعقاد ہوگا- اس کانگریس میں شامی حکومت کے مخالفین اور حامی اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں صلاح و مشورہ کریں گے تاکہ غیرملکی مداخلت کے بغیر شام کے پوری طرح جمہوری سیاسی مستقبل کو رقم کریں-

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ شامی گروہوں کے درمیان قومی کانگریس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ شام میں نئے آئین کی تدوین کی زمین فراہم کی جائے اور اس کے ذریعے اس ملک میں ایک آزاد اور منصفانہ الیکشن کرایا جائے جو پورے علاقے کے لئے امن و صلح کا پیغام ہوسکتا ہے- 

شام کی قومی کانگریس ، ایران ، روس اور ترکی کی ہدایت پر بحران شام کے حل کے لئے جمہوری اصولوں اور سفارتی تناظر میں ایک منطقی روش ہے اور اس کے مد مقابل ریاض میں سعودی عرب کی حمایت سے شام سے باہر بیٹھے ہوئے شامی مخالفین کے اجلاس کا بیان ہے - اس بیان میں شامی عوام اور جمہوری اصولوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اور صرف بشاراسد کے بغیر سیاسی عمل کی تشکیل کی ضد کی گئی ہے-

اس سلسلے میں رشا ٹوڈے نے بدھ کو ایک تجزیے میں لکھا کہ ایسے عالم میں جب ایران، شام ، روس اور ترکی سفارتی طریقے سے شام کے بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ کا رجحان رکھتے ہیں ؛ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کا بشاراسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا مطالبہ ایک عرصے سے ختم ہوچکا ہے-

ایران، روس اور ترکی کے اسٹریٹیجک تعاون اور کردار سے ، سفارتکاری اور اس کے ساتھ ہی شامی عوام کے مطالبات کا احترام شام کے سات سالہ بحران کی کلید ہے- اور یہ مہم سوچی میں شامی گروہوں کے درمیان قومی کانگریس میں پوری طرح واضح ہوگئی ہے- اس تناظر میں العمل الوطنی نامی مخالف گروہ کے وفد کے سربراہ محمود مرعی نے کہا کہ ہم سوچی اجلاس کی حمایت کرتے ہیں اور اس میں شریک ہوں گے کیونکہ اسے ہی بحران شام کے حل کا آغاز سمجھتے ہیں-

Nov ۲۳, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۷ UTC
کمنٹس