• ایران کا دفاعی نوعیت کا میزائل پروگرام، جرمنی اور فرانس کی دھمکی کا محور

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لودریان نے پیر کے روز اپنے جرمن ہم منصب زیگمار گیبریل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں، ایران پر علاقے میں سازش کا الزام عائد کرکے، ایران سے کہا ہے کہ وہ بیلسٹیک میزائل سے دستبردار ہوجائے۔

ایران کے میزائل پروگرام کو علاقے میں امن و استحکام درہم برہم کرنے والے عوامل کے ساتھ جوڑا جانا ،علاقے میں بدامنی پیدا ہونے سے تشویش کے باعث نہیں، بلکہ علاقے میں اپنے تسلط پسندانہ اہداف کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ہے۔ مغرب بنیادی طور پر ایک خودمختار اور طاقتور ایران کا مخالف ہے۔ کیوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، علاقے کی قوموں کی سرنوشت میں تسلط پسندانہ نظام اور اغیار کی مداخلتوں کا مخالف ہے۔ اگر اسلامی جمہوریہ ایران یہ چاہتا کہ مغربی ملکوں کی طرح بیان بازیوں اور دھمکیوں کا حربہ اپنائے،  تو آج صورتحال کچھ اور ہی ہوتی اور پھر نہ امریکہ اور نہ ہی یورپ کی، ایران سے کوئی مخالفت نہ ہوتی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے اس قسم کے گستاخانہ اور تحکّمانہ مواقف کی ایران کی عظیم قوم کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے۔

اس طرح کی بیان بازیاں ایران اور یورپ کے تعلقات میں، نہ صرف مہنگی ثابت ہوں گی بلکہ ایران کو، اپنے میزائل پروگرام میں وسعت لانے کے لئے مزید پرعزم بنائیں گی۔ اگر ایران بھی فرانس کے وزیر خارجہ کی طرح علاقے میں سازشیں رچتا تو آج نہ صرف علاقے میں بلکہ یورپی شہروں اور حتی امریکہ میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے اڈے ہوتے کہ جن کو سعودی عرب، امریکہ، اسرائیل اور بعض دیگر یورپی ملکوں منجملہ فرانس کی حمایت سے یہ موقع مل گیا تھا کہ وہ علاقے کو بدامنی سے دوچار کردیں۔ 

جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کی شام، امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیراڈ کوشنر کے ایران مخالف بیان کو امریکی حکام کی بوکھلاہٹ اور احساس شکست کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عراق اور شام میں ، ایران نے داعش کا سر نہ کچلا ہوتا تو اس وقت داعشی دہشت گرد امریکا کی سڑکوں پر دندناتے پھرتے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیراڈ کوشنر نے اتوار کو ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف بقول ان کے دنیا کو متحد کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

یہ بے بنیاد دعوے اور پروپیگنڈے ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دوسال قبل، ایران کے ایٹمی مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت کے باوجود، امریکہ اور یورپی ملکوں کی یہ کوشش ہے کہ ایران کو دھمکی دینے کے لئے نئے نئے بہانے تراشیں۔ جب امریکیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خطرہ ہونے کے بہانے یورپ میں میزائل شیلڈ کی تنصیب کا منصوبہ پیش کیا تو امریکہ نے اعلان کیا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے میں اتفاق رائے کے باوجود، یورپ میں نیٹو کی میزائل شیلڈ باقی رہے گی۔ خواہ اتفاق رائے سے ہو یا اتفاق رائے کے بغیر۔ 

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس وقت ایک مضمون میں ، امریکہ کے قول و فعل میں تضاد کو اس بات کا شاہد قرار دیا کہ ایران کو دھمکی کا نشانہ بنانا، شروع سے ہی محض ایک بہانہ تھا۔ وہ بات جو مسلم ہے یہ ہے کہ آج بھی ایران کو دھمکی کا نشانہ بنانا محض ایک بہانہ ہے لیکن میزائل کے تعلق سے ایران کی صلاحیت، ٹھوس اور ثابت ہے۔ ایران کا اپنے دفاع کے لئے میزائلی طاقت کا حامل ہونا ضروری ہے اور ایران کو اپنی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے، دوسروں کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر امریکہ اور یورپ کو دنیا اور علاقے کے تعلق سے تشویش ہے تو انہیں چاہئے کہ اس صورت میں وہ اپنا وقت تخفیف اسلحہ اور مشرق وسطی کےعلاقے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے نیز اسرائیل کے مہلک ہتھیاروں کے لئے اقوام متحدہ کی جو قراردادیں ہیں، ان پر عملدرآمد میں صرف کریں۔ بہرصورت ایران کی میزائل طاقت کے خلاف بے بنیاد الزامات اور اس کو خطرہ قرار دینے کا مقصد ملکوں کے دفاع کے قانونی حق میں مداخلت کرنا ہے۔     

Dec ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۴:۴۹ UTC
کمنٹس