• ہندوستان پر چین کا اعتراض

چین کے اندر ہندوستان کا ایک ڈرون طیارہ گرنے کے بعد بیجنگ نے نئی دہلی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار زانگ شویلی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کا یہ اقدام چین کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی ہے اور اس ملک کی فوج چین کی قومی سلامتی اور خود مختاری کا دفاع کرے گی-

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہندوستان کا ایک ڈرون طیارہ چینی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد چینی فوج کے ہاتھوں مار گرایا گیا - چینی فوج کا یہ اقدام بیجنگ کے بقول ہندوستان کی جارحیت کا سخت ترین جواب ہے - ہندوستان اور چین نے انیس سو باسٹھ میں ارضی اختلافات کی بنا پر جنگ کی تھی اس بنا پر ہندوستان کے فوجی اقدام پر چین کا بھرپور جواب اس پیغام کا حامل ہوسکتا ہے کہ چین ہندوستان کے ساتھ اپنے اختلافی مسائل میں ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا-

حالیہ مہینوں میں ون بیلٹ ون روڈ کے زیرعنوان اقتصادی پروگرام پر ہندوستان کی خفیہ و آشکارا مخالفتوں کے پیش نظر بیجنگ اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور چین کی فوج کی جانب سے ہندوستانی ڈرون کو مار گرانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک بھرپور جنگ کے خطرے کا امکان بڑھ سکتا ہے- ہندستان میں سیاسی امور کی ماہر محترمہ گیتا کوچارجیسوال کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اور بیجنگ کو چاہئے کہ وہ کسی بھی ممکنہ حادثے کو رونما ہونے سے روکنے کے لئے سرحدوں کی نشاندھی اور کشیدگی کم کرنے کے لئے جلد سے جلد اقدام کریں -

چین کی طرف سے دوکلام میں سڑک کی تعمیر اورمتنازعہ علاقے میں ہندوستانی فوجیوں کا داخلہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی اصلی وجوہات ہیں- اس کے علاوہ اس بات کے پیش نظر کہ  امریکہ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے علاقے میں پاکستان کے بجائے ہندوستان کو انتخاب کئے جانے سے بیجنگ کو تشویش ہے کہ کہیں ہندوستانی حکومت امریکی دباؤ یا لالچ میں آکر چین کے لئے مسائل نہ کھڑے کرے یا ہندوستان کے ساتھ زمینی اختلافات کے سلسلے میں چین کے عزم کو آزمانے کی کوشش نہ کرے - اسی بنا پر چین نے ہندوستان کے ڈرون طیارے کے سلسلے میں سخت رویہ اختیار کرکے ہندوستان کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کا بھرپورجواب دیا ہے-

اس کے باوجود بعض سیاسی حلقے چین اور ہندوستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کو ان دونوں ملکوں کے داخلی مسائل پر ایک طرح کا ردعمل سمجھتے ہیں تاکہ رائے عامہ کی توجہ موجودہ مسائل سے ہٹا سکیں- روسی یونیورسٹی کے پروفیسر اور ہندوستانی امور کے ماہر بوریس والخانسکوا کہتے ہیں کہ ہندوستانی اور چینی حکام کے بعض جنگ پسندانہ اقدامات اور بیانات ضروری اہداف کے تحت سامنے آرہے ہیں اور ان کا مقصد قومی جذبات کو ابھارنا ہے- بطور مثال ہندوستانی وزیراعظم یا چینی صدر کے لئے یہ اہم ہے کہ ان ملکوں کے عوام انھیں ایک مضبوط رہنما کی نگاہ سے دیکھیں-

بہرحال چین اور ہندوستان دونوں ہی کثیر آبادی کے حامل ممالک ہونے کے ساتھ ہی ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ہیں چنانچہ  دونوں اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لئے متحد ہو کر علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ کو اپنی عالمی اجارہ داری خطرے میں نظر آرہی ہے اس لئے اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ واشنگٹن ہندوستان کو اشتعال دلا کر اختلافات کو ھوا دینے اور دہلی اور و بیجنگ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ چینی حکومت کو کسی طرح ذیلی مسائل میں الجھا کر عالمی سطح پر طاقت کا مظاہرہ کرنے سے روک سکے-

 

Dec ۰۷, ۲۰۱۷ ۱۵:۲۶ UTC
کمنٹس