• متحدہ بیت المقدس قانون کی منظوری، ٹرمپ کی مدد سے سلامتی کونسل کی خلاف ورزی

صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ کنسٹ نے متحدہ بیت المقدس نامی قانون کو منظوری دے دی ہے

صیہونی کابینہ کی قانون ساز کمیٹی نے اگست دوہزارسترہ میں اس قانون کو منظوری دی تھی -اور اب منگل کے روز صیہونی پارلیمنٹ نے کنسٹ نے بھی متحدہ بیت المقدس نامی قانون کو منظوری دے دی- اس قانون کی شقوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ بیت المقدس پر پوری طرح صیہونی حکومت کا کنٹرول اور حکمرانی ہوگی- اس قانون میں آیا ہے کہ بیت المقدس کی تقسیم  کنسٹ کے ایک سو بیس ووٹوں میں سے اسی ووٹوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی-

اس قانون کا مطلب مقبوضہ علاقوں میں دو حکومت کے نظریے کا مکمل خاتمہ ہے کیونکہ اس قانون کے مطابق ایک طرف صیہونی حکومت کسی بھی صورت میں مشرقی بیت المقدس سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور دوسری جانب بیت المقدس کے کچھ حصوں کو اسی صورت میں فلسطینیوں کو دیا جا سکتا ہے جب کنسٹ کے اسی ممبران اس کے حق میں ووٹ دیں جبکہ اس سے پہلے اس کے لئے کنسٹ کے ایک سو بیس میں سے صرف ساٹھ مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی - دوسرے لفطوں میں اس قانون کے نتیجے میں امن مذاکرت کے انعقاد کا جو تھوڑا بہت امکان تھا وہ بھی معدوم ہوگیا ہے- اس بنیاد پر فلسطینی انتظامیہ کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ بیت المقدس نامی قانون کی منظوری ملت فلسطین کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے- 

دوسرا موضوع  یہ ہے کہ یہ قانون عجلت میں منطور نہیں کیا گیا بلکہ یہ قدم پوری طرح منظم پروگرام کے تحت اٹھایا گیا ہے کیونکہ اس سے پہلے گذشتہ اگست میں صیہونی کابینہ کی قانون ساز کمیٹی نے اس قانون کو منظوری دی تھی- درایں اثنا برسراقتدار جماعت لیکوڈ پارٹی نے گذشتہ اتوار کو ایک ایسے مسودہ قانون کو منظوری دی تھی کہ جس میں غرب اردن اور بیت المقدس میں تعمیرشدہ تمام یہودی کالونیوں پر صیہونی حکومت کی حکمرانی پر تاکید کی گئی تھی- لیکوڈ پارٹی کے تقریبا ایک ہزار ممبران نے جو کہ اس جلسے میں موجود تھے، اس مسودہ قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیئے اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی- صیہونی کابینہ کے ان تمام اقدامات کے ساتھ ہی امریکی صدر ٹرمپ نےبھی چھے دسمبر دوہزارسترہ کو تل ابیب کے بجائے بیت المقدس کو صیہونی حکومت کا دارالحکومت اعلان کردیا- ان تمام اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ بیت المقدس کا قانون منظم منصوبہ بندی کے ساتھ منظور کیا گیا ہے اور اسرائیلی کنسٹ نے تمام پہلؤوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے منظوری دی ہے-

اس سلسلے میں تیسرا موضوع یہ ہے کہ متحدہ بیت المقدس کا قانون اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں خاص طور سے سلامتی کونسل کی قرارداد تیئس چونتیس کے خلاف ہے- یہ قرارداد جو کہ امریکہ کی مخالفت کے باوجود سلامتی کونسل کے چودہ ممبران کی حمایت سے منظور ہوئی اس میں اسرائیل کے ہاتھوں مقبوضہ زمینوں میں کسی بھی طرح کی یہودی کالونی کی تعمیر سے منع کیا گیا تھا- متحدہ بیت المقدس کا قانون نہ صرف کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے اور سلامتی کونسل کی قرارداد تیئیس چونتیس کو نظرانداز کرنے یے مترادف  ہے بلکہ اس سے بھی برھ کرمقبوضہ زمینوں کو پوری طرح بیت المقدس میں ضم کرنا ہے- 

ایک اور موضوع یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے متحدہ بیت المقدس قانون کو منظوری دے کر ایک طرح سے یہ ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے کہ عالمی احتجاج خاص طور سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کہ جو اکیس دسمبر کو ایک سواٹھائیس ووٹوں سے منظور ہوئی ہے، اس کا صیہونی حکومت کی غاصبانہ پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا-

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ متحدہ بیت المقدس قانون کی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ صیہونی حکومت امریکہ کی مدد و حمایت سے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے خود ہی اپنے لئے اپنی مرضی کا قانون منظور کرتی ہے - دوسرے لفظوں میں اس حکومت کے رویے پر پوری طرح انارکی طاری ہے-

ٹیگس

Jan ۰۳, ۲۰۱۸ ۱۵:۳۹ Asia/Tehran
کمنٹس