• جواد ظریف کا دورہ ماسکو اور دوطرفہ و علاقائی مسائل پر صلاح و مشورے کی ضرورت

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے مسلسل صلاح و مشورے کے تناظر میں خاص طور سے ایٹمی سمجھوتے کے بارے میں بات چیت کے لئے ماسکو کے دورے پر ہیں -

جمعرات کو بریسلز میں جواد ظریف اور فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے پیش نظر ان کے اس دورے نے سیاسی تجزیہ نگاروں کی توجہ ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں چند فریقی صلاح و مشورے پر مرکوز کردی ہے-

روس ، ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کا ایک حصہ ہے- روس نے گروپ پانچ جمع ایک کے ایک رکن کی حیثیت سے اس بات کی کوشش کی کہ ایٹمی سمجھوتہ صرف ایٹمی موضوع تک ہی محدود رہے اور اپنے منطقی انجام تک پہنچے- ہرچند ایٹمی سمجھوتے کو سوفیصد درست اور بے عیب سمجھوتہ نہیں کہا جا سکتا تاہم ایٹمی سمجھوتہ جس قدر ٹرمپ کے لحاظ سے ایک ناقص سمجھوتہ ہے، ایران کے لئے بھی قدرے مناسب سمجھوتہ ہے جو خاص کمزوریوں کا حامل ہے- اسی بنا پر ایران نے بھی کچھ تحفظات کے تحت عالمی برادری کے ساتھ اشتراک عمل اورصرف اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے اس معاہدے پردستخط کئے ہیں -

اس وقت ایران اسی وقت تک ایٹمی سمجھوتے کی پابندی کو مفید سمجھتا ہے کہ جب تک تمام فریق ایٹمی سمجھوتوں کی تمام شقوں کے پابند رہیں گے- البتہ ایران کے ساتھ امریکہ کا مسئلہ ایٹمی سمجھوتہ نہیں ہے- امریکہ ، علاقے میں ایران کی پوزیشن اور علاقے میں قیام امن میں ایران کے بااثر کردار کو برداشت نہیں کرپا رہا ہے کیونکہ اس نے علاقے میں امریکہ کی چالوں کو ناکام بنا دیا ہے- اسی وجہ سے امریکہ ، سعودی عرب اور اسرائیل کے مثلث نے اپنی تمام کوششیں اور اقدامات علاقے کی سیاسی تبدیلیوں سے ایران کو باہر نکالنے پر مرکوز کردی ہیں اور ان کوششوں واقدامات کا اہم مرحلہ ایٹمی سمجھوتے کو درہم برہم کرنا ہے لیکن امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کے لئے اسے ناکوں چنے چبانے پڑیں گے-

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے گذشتہ برس اپنے دورہ تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات میں ایٹمی سمجھوتے کو عالمی امن و ثبات کے تناظر میں انجام پانے والا سمجھوتہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایٹمی سمجھوتے کو کسی بھی بہانے سے یکطرفہ طور پرختم کرنا قابل قبول نہیں ہوگا اور ایٹمی سمجھوتے کا ایران کے دفاعی اور میزائلی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے- 

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی ایٹمی سمجھوتے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی سمجھوتہ ایک مشترکہ اقدام ہے نہ اس پر دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے- اس کے باوجود ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی اقدامات ایسے مرحلے میں پہنچ گئے ہیں کہ چین ، روس اور یورپی یونین کو صرف امریکہ کی تنقید پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس سے آگے بڑھ کرٹھوس موقف اختیار کرنا چاہئے- امریکہ ایٹمی سمجھوتے کی خلاف ورزی کر کے سیاسی بدعت کی بنیاد رکھ رہا ہے کہ جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگیاں بڑھانے کا سبب بنیں گی- اس میں کوئی شک نہیں کہ طویل مدت میں نئی صورت حال کے منفی نتائج برآمد ہوں گےجسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا-

اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے اور ایٹمی سمجھوتے کے دیگر فریق ممالک کے درمیان پیدا شدہ توازن کو درہم برہم کرنے میں پہل نہیں کرے گا تاہم اس اسٹریٹیجی کے جاری رہنے کا انحصار تمام فریقوں کے رویے پر ہے کہ وہ کس حد تک اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں-

 

 

 

ٹیگس

Jan ۱۰, ۲۰۱۸ ۱۷:۴۰ Asia/Tehran
کمنٹس