• سعودی عرب کی جنگ اور یمن کے تعلیمی مراکز کی تباہی و بربادی

یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ کا اصلی ہدف و مقصد، طلباء اور تعلیمی کو مراکز کو نشانہ بنانا رہا ہے۔

یمن کے خلاف سعودی عرب کی غیر مساوی جنگ کو تین سال پورے ہونے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مسلط کردہ جنگ میں پچاس ہزار سے زائد یمنی شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کے قلیل المدت اور قابل محسوس نتائج کے ساتھ ہی یہ جنگ طویل المدت نتائج کی بھی حامل رہی ہے۔ یمن کے لئے اس جنگ کے طویل المدت نتائج میں سے ایک، تعلیمی مراکز کا خاتمہ اور بچوں کا شہید و زخمی ہوجانا اور ان کا تعلیم سے محروم ہوجانا ہے۔ بالفاظ دیگر یمن کے خلاف سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں کی روزانہ کی بمباری اور جنگ کے نتیجے میں ، تعلیمی سہولیات اور امکانات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

اسی سلسلے میں قطر کے الجزیرہ ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں، یمن کے خلاف سعودی عرب کے جارح اتحاد کے حملوں کے آغاز سے یمن میں تعلیم کے شعبے کی بدترین صورتحال کا ذکرکرتے ہوئے تقریبا چودہ سو اسکولوں کے نابود ہونے کی خبر دی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ عالمی فلاحی ادارے آکسفیم نے یمن میں تباہ ہونے والے اسکولوں کی تعداد 1600 بتائی ہے۔ یمن میں اسکولوں کی تباہی، اس ملک کے تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کے مترادف ہے۔ بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے اس ملک کے تقریبا پینتالیس لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔ تقریبا تیس لاکھ یمنی شہری بے گھر ہوگئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔

درایں اثنا جو اسکول تباہ ہونے سے بچ گئے ہیں ان میں سے بیشتر کو یمنی شہریوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں اساتذہ بھی اس جنگ میں شہید و زخمی اور بے گھر ہوچکے ہیں اور ان کے لئے یمن کے مختلف علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں انجام دینے کا امکان نہیں ہے۔ یونیسف کی نمائندہ مرچل ریلانو نے کہا کہ یمن میں ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے زیادہ اساتذہ کو گزشتہ کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں جس کا یمن کے اسکولوں پر منفی اثر پڑا ہے- مرچل ریلانو نے  کہا کہ یمن کے اکثر اسکول سعودی حملوں کے باعث تباہ یا بند ہوگئے ہیں اور جو چل رہے ہیں ان میں بچوں کی زیادہ تعداد کے لحاظ سے اساتذہ کی کمی ہے۔

ان مسائل کے ساتھ ہی یمنی شہریوں کے دیگر مسائل و مشکلات اور اس میں وبا کی بیماری پھیلنے کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مشہور کالم نگار نکولس کرسٹوف کی رپورٹ کے مطابق یمن میں ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بچے کی ہلاکت ہو رہی ہے اور ہر روز پانچ ہزار یمنی بچے ہیضے کی وبا کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی جارحیت سے یمن کی ایک پوری نسل کو تباہ کرنے اور یمن کے مستقبل کے معماروں کو تعلیم سے محروم کرنے کا بھیانک منصوبہ بنایا تھا اور اس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس کے طیاروں نے طے شدہ پلان کے تحت ممنوعہ کلسٹر بموں سے بمباری کر کے سیکڑوں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تباہ کردیا ہے۔

یمن میں نہ صرف تعلیمی سہولیات موجود نہیں ہیں بلکہ یمنی بچوں میں جسمانی اور نفسیاتی سلامتی بھی جنگ کے سبب انتہائی زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ماہر "بیسمارک سوآنگین" کا خیال ہے کہ "یمن میں جنگ، بچوں کے خلاف جنگ ہے" کہ جو صحیح و سالم کھانوں کے فقدان یا وبا کی بیماری کے نتیجے میں، موت کے انتظار میں ہیں۔ یہ تمام تر صورتحال اس بات کا باعث بنی ہے کہ عالمی ادارے یمن کی تعلیمی صورتحال کو، اس ملک کے خلاف جنگ کے باعث المناک قرار دیں۔

اگرچہ جنگ کے تمام پہلو سنگین نتائج کے حامل ہوتے ہیں لیکن تعلیمی پہلو سے اس کے نتائج سب سے زیادہ بدتر ہوتے ہیں کیوںکہ یہ مسئلہ ملک کے مستقبل سے مربوط ہوتا ہے خآص طور پر ایک ایسا ملک جو پہلے سے ہی غریب اور کمزور ہو۔ ایک ملک کے کسی بچے کی موت یا ایک بچے کا تعلیم سے محروم ہوجانا اس ملک کے مستقبل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ان حالات میں جو اس وقت یمن میں پائے جاتے ہیں، ایک غریب ترین عرب ملک کی حیثیت سے وہاں مفید اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔

       

Jan ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۶:۳۶ Asia/Tehran
کمنٹس