• شیخ زکزکی دوسال کے بعد نامہ نگاروں کے درمیان

نائجیریا کی تحریک اسلامی کے رہنما شیخ ابراہیم زکزکی دو سال کے بعد نامہ نگاروں کے درمیان حاضر ہوئے اور اپنے ملک کے عوام کا، ان کی حمایت کرنے کے سبب شکریہ ادا کیا۔

نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ ابراہیم زکزکی کہ جو دو سال سے غیر قانونی طور پر نائیجیرین فوج کے زیر حراست ہیں، کو بروز ہفتہ 13 جنوری 2018 کو نامہ نگاروں کے درمیان حاضر کیا گیا۔

موصوف کو اس حالت میں کہ عصا ہاتھ میں تھا اور گردن پر پٹی بندھی ہوئی تھی، کال کوٹھری سے باہر نکال کر انہیں اس ملک کے دار الحکومت ابوجا کے ہسپتال میں طبی معاینہ کے لئے لے جایا گیا جبکہ اس دوران نامہ نگاروں سے چند جملے انہوں نے گفتگو بھی کی۔

شیخ زکزکی نے نامہ نگاروں سے کہا: میں ابھی زندہ ہوں اور خداوند عالم کی بارگاہ میں شکر گزار ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے آج اجازت ملی ہے کہ میں ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کروا سکوں۔

قابل ذکر ہے کہ شیخ زکزکی کو طبی معائنہ کی اجازت گزشتہ دنوں اس ملک کے عوام کے وسیع پیمانے پر کئے گئے احتجاجی مظاہرے کے بعد ملی ہے۔

خیال رہے کہ 13 دسمبر 2015 کو نائیجیریا کی فوج نے زاریا میں امام بارگاہ بقیۃ اللہ پر ایک مذہبی تقریب کے دوران حملہ کر کے ایک ہزار کے قریب شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا جبکہ شیخ زکزکی کے ایک بیٹے کو شہید کئے جانے کے بعد، شیخ زکزکی کو ان کی اہلیہ کے ہمراہ زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا جو تاحال غیر قانونی طور پر فوج کے زیر حراست ہیں۔

شیخ زکزکی کی گرفتاری پر اس ملک کے مسلمانوں نے وسیع پیمانے احتجاج کئے۔ وہ شیخ کی رہائی اور انہیں دوبارہ ان کی سرگرمیوں کی اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اگر چہ مدتوں کے بعد نائیجریا کی عدالت عالیہ نے شیخ زکزکی کی رہائی کا حکم صادر کر دیا تھا اور ان کے حامیوں کو امید تھی کہ وہ رہائی پاجائیں گے لیکن نائیجریا کی حکومت نے ان کی رہائی کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا اور شیخ زکزکی، بدستور جیل کی کال کوٹھری میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 

اگرچہ گزشتہ دوبرس کے دوران نائیجریا کے مسلمانوں نے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کرکے شیخ زکزکی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم نائیجیریا کی فوج نے نہ صرف ان کے مطالبات کو قبول نہیں کیا بلکہ کسی بھی قسم کے اجتماع یا مظاہرے پر پابندی لگا دی۔ اس کے باجود گزشتہ ہفتوں کے دوران شیخ زکزکی کی حالت مزید خراب ہونے کے ساتھ ہی صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی اور نائیجیریا کی تحریک اسلامی کے رکن ابراہیم سلمان نے کہا  کہ اس تحریک اور شیخ زکزکی کے اہل خانہ کی جانب سے انہیں علاج معالجے کے لئے کسی دوسرے ملک بھیجے جانے کی، بار بار حکومت نائیجیریا سے درخواست کی گئی ہے تاہم وہ شیخ زکزکی کو باہر کسی ملک نہ بھیج کر ان کو تدریجی طور پر شہید کرنے کے درپے ہے۔

ان حالات نے نائیجریا کے مسلمانوں کے غم وغصے میں اضافہ کردیا اس طرح سے کہ اس ملک کے مسلمانوں نے گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کرکے، شیخ زکزکی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلمانوں کا حکومت پر دباؤ اس بات کا باعث بنا کہ آخرکار اس ملک کے حکام نے شیخ زکزکی کو علاج کی اجازت دے دی اور وہ مختصر مدت کے لئے نامہ نگاروں کے درمیان بھی حاضر ہوئے۔ 

اگرچہ شیخ زکزکی کی اس ملاقات سے، ان کی سلامتی سے متعلق تشویش میں کسی حد تک کمی آئی ہےلیکن نائیجریا کے مسلمان اس ملک کی تحریک اسلامی کے رہنما کی رہائی اور اس ملک کے مسلمانوں پر دباؤ میں کمی کے خواہاں ہیں۔  

نائیجریا کی حکومت مدتوں سے اس ملک کے مسلمانوں کے خلاف دشمنانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہے ۔ شیخ زکزکی کی گرفتاری، مسلمانوں پر دباؤ میں اضافہ اور اسی طرح مسلمانوں کے ہرطرح کے اجتماعات پر پابندی وہ جملہ پالیسیاں ہیں جو نائیجیریا کی حکومت مسلمانوں کے خلاف اختیار کئے ہوئے ہے۔ یہ اقدامات ایسی حالت میں انجام پا رہے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی نائیجیریا میں بعض مسلم شہریوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اس سلسلے میں نائیجیریا کی حکومت کو ہدف تنقید بنایا تھا اور اس حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس ملک میں ایک شیعہ گروہ کے چھ سو اراکین کے لاپتہ ہونے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کرے۔

تجزیہ نگاروں کے بقول نائیجیریا کی حکومت ، سعودی حکومت، امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے زیر اثر اس طرح کے اقدامات انجام دے رہی ہے۔ مدتوں سے صیہونی حکومت علاقے میں اپنی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث گوشہ نشیں ہوجانے کے بعد، افریقہ کے علاقے میں اثر و رسوخ حاصل کرنے اور اپنے اتحادی بنانے کے درپے ہے۔ اسی سلسلے میں کچھ عرصہ قبل نائیجیریا کے بعض فوجی کمانڈروں نے صیہونی حکومت کے فوجی حکام سے بھی ملاقات کی ہے۔ سعودی عرب اب وہ ملک ہے جو افریقہ میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہے۔

ریاض کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے افریقی ملکوں کو سعودی عرب، ان کی جی حضوری کے عوض اپنی خفیہ اور آشکارہ مالی اور فوجی امداد دینے میں کوشاں ہے۔ امریکہ بھی نائیجیریا کی حکومت کو ہتھیار اور فوجی ساز و سامان فروخت کرکے مسلمانوں کے خلاف اقدامات انجام دینے میں اس ملک کی مدد کر رہا ہے۔ اس وقت نائیجریا میں اثر ورسوخ رکھنے والی اسلام پسند تحریکوں اور تنظیموں کے ساتھ اسرائیل، سعودی عرب اور امریکہ کی دشمنی کے پیش نظر، شیخ زکزکی کو شہید کرنے کے حکومت نائیجیریا کے سمجھے بوجھے اور سازشی اقدامات کو مزید تقویت ملی ہے۔

Jan ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۲:۳۵ UTC
کمنٹس