• فرانس کے صدر کی ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی پر تاکید

فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے سے متعلق اپنے امریکی ہم منصب ٹرمپ کی جانب سے الٹی میٹم دیئے جانے کے ایک روز بعد، ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی کرنے پر تاکید کی ہے۔

فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں کہا کہ ایٹمی معاہدے کے تمام فریقوں کو چاہئے کہ وہ اس معاہدے کے دائرے میں اپنے وعدوں پر کاربند رہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایٹمی پابندیوں کو دوبارہ معطل کرنے کی مدت میں توسیع کے ساتھ ہی یورپی ملکوں کو چار مہینے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ ایٹمی معاہدے کے تعلق سے واشنگٹن کے موقف کی حمایت کریں۔ ایک بیان میں ، جو ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے منتشر ہوا، ایٹمی سمجھوتے میں امریکہ کے باقی رہنے کے لئے چار شرطیں معین کی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے یورپی ملکوں سے کہا ہے کہ وہ ان چار شرطوں پرعملدرآمد کے لئے ایران، روس اور چین پر دباؤ ڈالیں۔ یہ ایسے میں ہے کہ یورپی ملکوں نے بھی، اب چاہے وہ ٹرمپ کے حالیہ اقدام سے پہلے ہو یا بعد میں، ایٹمی معاہدے کے باقی رہنے کے سلسلے میں اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے خلاف ایٹمی پابندیوں کو معطل کرنے کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان کے ایک دن قبل ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اور ایٹمی معاہدے میں شامل تین یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کی دعوت پر بریسلز میں ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ ٹرمپ کو یہ پیغام دیں کہ ایٹمی سمجھوتہ اپنی مکمل صورت میں جاری  رہے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ، کہ اگر ایک سو بیس دن بعد امریکی شرطوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا تو یہ ملک ایٹمی معاہدے سے خارج ہوجائےگا ، میکرون نے ایٹمی مذاکرات کے فریق ملکوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کو، صراحتا سختی سے مسترد کیا ہے- جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے قومی سلامتی کے مشیر جان ھیکر نے کہا ہے کہ یورپ ایران کے ایٹمی معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی یا اسے منسوخ کئے جانے کی حمایت نہیں کرے گا۔

البتہ گزشتہ چند عشروں کے دوران یہ بات بہت واضح ہوگئی ہےکہ یورپی ممالک ایران کے دفاعی اور میزائل پروگراموں نیز علاقائی سرگرمیوں اور انسانی حقوق سے متعلق ایران کے خلاف عائد کئے گئے الزامات میں واشنگٹن کے ہم خیال ہیں اور ان ملکوں نے بھی امریکہ کی طرح تہران کے سامنے اپنے مطالبات پیش کئے ہیں۔ جبکہ یورپی ممالک شدت کے ساتھ  اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں اور ایٹمی معاہدے کے مسئلے کا، کسی اور دوسرے پروگراموں منجملہ میزائل پروگرام یا علاقے میں ایران کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقف کے اپنائے جانے کے سبب، ایٹمی معاہدے سے ایران کے میزائل پروگرام کو جوڑنے اور ایٹمی معاہدے کو نابود کرنے کی امریکی کوششوں کو سخت و دشوار حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یورپی ملکوں کے لئے ایٹمی معاہدہ نہ صرف ایک اقتصادی اور سیکورٹی مسئلہ ہے بلکہ ان کی حیثیت و آبرو کا مسئلہ ہے۔ اسی سبب سے دوسال قبل سے امریکہ کے اندر ایٹمی معاہدے کے مخالفین کو مطمئن کرنے کی کوششیں بروئے کار لائی گئی ہیں۔ البتہ امریکیوں کو توقع ہے کہ وہ لالچ دلاکر یا دھمکا کر آخرکار یورپ کو ایٹمی معاہدے کی مخالفت پر اکسا سکیں گے اور ایٹمی سمجھوتے کو ختم کرنے کے لئے حالات سازگار بنا سکیں گے تاہم ایسا ہوجانے کی صورت میں یورپیوں کی آبرو اور وقار، ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کو ہم آہنگ کرنے والے ملک کی حیثیت سے خاک میں مل جائے گا۔

 

 

 

ٹیگس

Jan ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۶:۰۵ Asia/Tehran
کمنٹس