• شام کے بحران کے تعلق سے سلامتی کونسل کا بے نتیجہ اجلاس

شام کے بحران کے بارے میں سلامتی کونسل کا گزشتہ روز ( 14 فروری) کا اجلاس ایک بار پھر کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا۔

اگرچہ گزشتہ روز کا اجلاس انسان دوستانہ بحران کے جائزے کے مقصد سے تشکیل پایا لیکن اس اجلاس کے انعقاد کی اصلی وجہ، گزشتہ اتوار کے روز شامی فوج کے ایئرڈیفنس سسٹم کے توسط سے صیہونی حکومت کے ایف سولہ لڑاکا طیارے کو مار گرایا جانا بتایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی جنگی طیارے کو مار گرایا جانا، اس غاصب حکومت اور امریکہ پر اتنا شاق گزرا ہے کہ جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی کہ واشنگٹن ایک بار پھر سلامتی کونسل میں انسانی بحران کے وقوع پذیر ہونے کی توجیہ کے لئے شام کے بحران کے جائزے یا شامی حکومت کے توسط سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا دعوی کرے گا ، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اسی دو مسئلے کو گزشتہ روز کے اجلاس میں شام کے خلاف استعمال کیا گیا۔

گزشتہ روز کے اجلاس نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ شام کے بحران کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ایک غیر مفید ادارے میں تبدیل ہوگئی ہے کیوں کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی، سلامتی کونسل کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں مشرق وسطی میں اسٹریٹیجک مسائل کے تجزیہ نگار "حسن شکری پور" کا خیال ہے کہ شام کے بحران نے آشکارا طور پر ثابت کردیا ہے کہ سلامتی کونسل ایک سیاسی ادارہ ہے اور امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی جانب سے اسے بطور ہتھکنڈہ استعمال کیا جانا، عالمی معیارات اور انسانی حقوق کے فروغ کے شعبے میں سلامتی کونسل کی ساکھ کے کمزور ہونے کا باعث بنا ہے۔

شام کے بارے میں گزشتہ روز کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس کا مشاہدہ کیا گیا کیوںکہ کل کا سلامتی کونسل کا اجلاس شام کے تعلق سے امریکہ اور روس کے درمیان تنازعے میں تبدیل ہوگیا۔ امریکہ کہ جسے شام میں جنگ کے میدان میں رول ادا کرنے میں، روس ، اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کی حکومت اور فوج کے مقابلے میں شکست ہوئی ہے، اب وہ سلامتی کونسل کو ان ملکوں پر دباؤ کے لئے، ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نیکی ہیلی نے شام کی حکومت پر عام شہریوں کے خلاف بمباری اور کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران پر بھی شام اور مشرق وسطی میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے جانے کا الزام لگایا ہے اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی حکومت میں اپنا اثر و رسوخ، اس ملک میں امن و امان کی برقراری میں بروئے کار لائے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ میں روسی نمائندہ واسیلی نبنزیا نے بھی نیکی ہیلی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شام کے حکومت مخالفین میں امریکی اثرو رسوخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، مخالفین کے توسط سے تشدد کی روک تھام کے لئے، امریکہ سے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسی طرح  شام کے بحران کے سیاسی راہ حل کے عملی ہونے کی راہ میں امریکہ کو رکاوٹ قرار دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے تین مستقل مغربی ارکان کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ طاقتیں فوجی میدان میں اپنی سات سالہ ناکامیوں کی تلافی، سیاسی منھ زوری اور سلامتی کونسل کو بطور سیاسی ہتھکنڈہ استعمال کررہی ہیں-اس رویے سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نبنزیا کے بقول مغربی طاقتوں نے بحران شام کے سلسلے میں سلامتی کونسل کو تماشا بنا رکھا ہے- اس سیاسی کیھل کا ایک ثبوت یہ ہے کہ شام کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے بار بار منعقد ہونے والے اجلاسوں میں بحران کے حل کے سلسلے میں کوئی انسان دوستانہ فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس ملک کے عوام کی فوری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا-

             

ٹیگس

Feb ۱۵, ۲۰۱۸ ۱۶:۱۹ Asia/Tehran
کمنٹس