• جماعت الدعوہ کے خلاف حکومت پاکستان نے لگائی پابندی

حکومت پنجاب پاکستان نے راولپنڈی میں جماعت الدعوۃ کے زیر انتظام مدارس اور صحت کے مراکز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی مہم کا آغاز کردیا۔

 جماعت الدعوہ کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کئے جانے اور اسے اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد، پاکستان کی حکومت نے جماعت الدعوۃ کے زیر انتظام مدارس اور صحت کے مراکز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی مہم کا آغاز کردیا۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری لسٹ میں جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم کے علاوہ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، لشکرِ جھنگوی اور لشکرِ طیبہ شامل ہیں۔ اسلام آباد میں جماعت الدعوۃ سمیت تمام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے دفعہ 144نافذ کردی گئی۔

لشکر طیبہ کے سرغنہ حافظ سعید نے، جو 2008  کے ممبئی حملے میں ملوث جانے جاتے ہیں، جماعت الدعوہ نام کا ایک فلاحی ادارہ قائم کیا تھا لیکن حکومت پاکستان پر امریکہ اور ہندوستان کا دباؤ اس بات کا باعث بنا کہ اس ملک کی حکومت نے بھی جماعت الدعوہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کی حکومت ، اپنے ملک میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا رہی ہے۔

2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی حکومت نے سپاہ صحابہ پر بھی پابندی لگادی تھی لیکن پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کسی ادارے کی سرگرمیوں پر پابندی لگتی ہے تو اس ادارے کے افراد کی سرگرمیوں یا  کسی اور نام سے دوسرا ادارہ کھولے جانے پر پابندی نہیں لگتی اور حافظ سعید جیسے اشخاص کے لئے یہ امکان ہے کہ وہ کوئی اور ادارہ کھول کر اپنی سرگرمیاں انجاد دیں۔ اسی سبب سے پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی سے مقابلے کی اسلام آباد حکومت کی کوششوں کے باوجود، بدستور اس پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام ہے۔

اس بناء پر بعض حلقے ، حکومت پاکستان کی جانب سے جماعت الدعوہ جیسے گروہوں کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی آئی اے کے سربراہ مائک پمپو Mike Pumpo کہتے ہیں: اگر حکومت اسلام آباد اپنے ملک میں دہشت گردوں کے پرامن ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کے خلاف کاروائی کرے تو سارے کام ہم انجاد دیں گے یہاں تک انہیں یہ ضمانت دے دیں کہ اب کوئی بھی دہشت گرد باقی نہیں رہ گیا ہے۔

اس کے باوجود سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان ، مسلح عناصر کو اپنے اہداف اور پروگراموں کو خاص طور پر افغانستان میں آگے بڑھانے کے لئے، استعمال کر رہا ہے، اس لئے یہ حلقے،  جماعت الدعوۃ اورفلاحِ انسانیت فائونڈیشن کے انسانی وسائل پرپابندی، منقولہ، غیرمنقولہ اثاثے منجمد کرنے اور انھیں سرکاری تحویل میں لینے کی منظوری کو ٹھوس قدم قرار نہیں دے رہے ہیں بلکہ ان کا تو خیال ہے کہ حکومت پاکستان، بعض اوقات سرکش گروہوں کو اسلام آباد کی پالیسوں کا ہمنوا بنانے پر مجبور کرتی اور ان کو استعمال کرتی ہے۔ 

نیو امریکہ فاؤنڈیشن کے سربراہ Steve Cale کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج کا طالبان جیسے انتہاپسند اور دہشت گرد گروہوں سے مقابلہ مشکوک ہے ۔ اس لئے کہ پاکستان کے بعض موجودہ اور ریٹائرڈ فوجی افسران اور اس ملک کی انٹلی جنس اداروں کے افسران، ان انتہا پسند گروہوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔  

بہرحال جماعت الدعوہ گروہ کی سرگرمیوں پر پابندی کو اگرچہ اسلام آباد کی حکومت کے نقطہ نظر سے پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے لیکن ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور سنجیدہ مقابلہ کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ایک بار پھر اس ملک کے دینی مدارس اور نام نہاد فلاحی مراکز میں پنپ نہ سکے۔

ٹیگس

Feb ۱۵, ۲۰۱۸ ۱۶:۲۰ Asia/Tehran
کمنٹس