• علاقے میں ایران کی موجودگی کا امریکہ اور یورپ سے کوئی تعلق نہیں: رہبر انقلاب

پیغمبر اسلام (ص) کی لخت جگر اور شفیعہ روز جزا حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے شعراء اور ذاکرین اہلبیت اطہار علیہم السلام نے جمعرات کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ ہر جارح ملک کو دنداں شکن جواب دیا ہے فرمایا کہ علاقے میں ایران کی موجودگی کا امریکہ اور یورپ سے کیا تعلق ہے؟ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علاقے میں ایران کی موجودگی کے سوال پر تہران کے ساتھ مذاکرات کے لئے یورپی حکام کے بیانات کے جواب میں  فرمایا کہ اس بات کا یورپی ملکوں سے کیا تعلق ؟ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے کی قوموں سے بات چیت کرے گا۔ 

رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں علاقائی سطح پر ایران کی موجودگی کے بارے میں امریکی اور یورپی حکام کی مخالفت کے سلسلے میں فرمایا کہ کیا اب علاقے میں موجود رہنے کے بارے میں ہم امریکا سے اجازت لیں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں اپنی موجودگی کے بارے میں صرف علاقے کے ملکوں سے بات چیت کرے گا نہ کہ امریکیوں سے، جب ہم امریکا میں جائیں گے تو اس وقت امریکیوں سے بات کریں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آزادی و خود مختاری کے ساتھ عمل کیا ہے اور امریکہ و یورپ کی مرضی سے ہٹ کر ، اپنے اور مغربی ایشیاء کے اسٹریٹیجک علاقے کی قوموں کے مفادات کے لئے کام کیا ہے۔ ایران نے پرامن بقائے باہمی  اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے پیش نظر علاقائی و اجتماعی مسائل کے تعلق سے بات چیت کے دائرے میں، علاقے کے سیاسی و سیکورٹی توازن کو برقرار رکھا ہے۔  بیرونی ملکوں کی مداخلت کے بغیر، علاقے میں پائیدار سلامتی کے قیام کے مقصد سے علاقائی سطح پر مذاکرات انجام دینا، اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ علاقائی ممالک کے درمیان بات چیت کے فروغ کے لئے وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے  " ریجنل ڈائیلاگ فورم " کی تشکیل کی تجویز، مغربی ایشیاء کے علاقے میں امن کے قیام کی برقراری کے لئے ایران کے موثر اور تعمیری وجود کی علامت ہے۔

مغربی ایشیاء کے علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی تعمیری اور ذمہ دارانہ موجودگی کے ذریعے عراق اور شام کی قانونی حکومتوں کے ساتھ  تعاون اور مذاکرات  انجام دیئے اور عراق و شام میں داعش کو نابود کرکے مغربی ملکوں خاص طور پر امریکہ  کو اس علاقے میں اپنی من مانی نہیں کرنے دیا۔ دشمنوں کے مقابلے میں علاقے کی قوموں کی مدد کرنا  اور ان پر توجہ دینا ، علاقے کے با اثر ملک کی حیثیت سے ایران کی فطری اور ذاتی ذمہ داری ہے۔ لبنان سے لے کر شام تک مزاحمتی محور کو حاصل ہونے والی کامیابیاں، علاقائی تعاون کا ایک موثر نمونہ ہیں جن میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ یہ با مقصد تعاون اس بات کا سبب بنا ہے کہ یورپی  اور امریکی ممالک، کہ جو علاقے میں اپنے مفادات کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں ، علاقے میں ایران کی موجودگی بارے میں بات کریں۔ 

مغرب خاص طور پر فرانس ، برطانیہ اور امریکہ ایسی حالت میں اپنے زعم ناقص میں علاقے میں ایران کے کردار کو تخریبی سمجھ رہے ہیں کہ شام میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ ،ان ہی ملکوں کی حمایت و مدد سے وجود میں لائے گئے اور مسلح کئےگئے ہیں اور یمن کی جنگ بھی فرانسیسی ، برطانوی اور امریکی ہتھیاروں کے حملوں کے ساتھ ہی اپنے چوتھے سال میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موثر موجودگی نے مغرب کی سامراجی اور توسیع پسندی کی بساط لپیٹ دی ہے۔ یہی مسئلہ سبب بنا ہے کہ یورپ اور امریکہ کی کوشش ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ علاقے میں ایران کی موجودگی اور اس کے کردار کے بارے میں بات چیت کریں۔

ایرانی قوم کے ساتھ ان کی چالیس سالہ دشمنی بھی اسی دائرے میں ہے۔ ایران کے چند شہروں میں گذشتہ دنوں میں ہونے والے فسادات بھی مغرب خاص طور پر امریکی ڈکٹیشن پر انجام پائے تھے لیکن رہبرانقلاب اسلامی کی تعبیرکے مطابق ایرانی قوم سے ہمیشہ ہر جارح عناصر کو منھ کی کھانی پڑی ہے۔ علاقے میں ایران کی موثر اور مثبت موجودگی کے مقابلے میں، مغربی ایشیاء کے علاقے میں اغیارکی مداخلت ہے، جو بدامنی میں اضافے، دہشت گردی کے فروغ اور علاقے میں باہمی تعاون کے بجائے تفرقہ اندازی اور مقابلہ آرائی کا سبب بنی ہے۔ اسی سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کہتے ہیں کہ علاقے میں امریکہ کی مداخلتیں اور پالیسیاں، بنیادی ترین چیلنجز ہیں جو علاقے کے بحران کے مزید پیچیدہ ہونے کا باعث بنے ہیں۔ درحقیقت امریکہ شام میں اپنی غیر قانونی فوجی موجودگی کو جاری رکھتے ہوئے اپنی تخریبی اور کشیدگی پھیلانے والی پالیسیوں پر مصر ہے۔      

Mar ۰۹, ۲۰۱۸ ۱۷:۱۰ Asia/Tehran
کمنٹس